مجلس کو 8 سال بعد شہدائے مکہ مسجد کیلئے انصاف یاد آیا

ملزمین کی ضمانت پر رہائی کیخلاف احتجاج کرنے 18 مئی کو جلسہ عام ، بلدی انتخابات کی تیاری
حیدرآباد ۔ /14 مئی (سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکہ کے 8 سال بعد مجلس کو شہدائے مکہ مسجد کے لئے انصاف یاد آگیا۔ /18 مئی 2007 ء کو مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر ہوئے بم دھماکے میں 9 افراد شہید ہوئے تھے جبکہ پانچ افراد پولیس فائرنگ میں شہید کردیئے گئے تھے ۔ صدر مجلس نے آج سکریٹریٹ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مجلس کی جانب سے /18 مئی 2015 ء بروز پیر کالا پتھر تاڑبن علاقہ میں مکہ مسجد بم دھماکہ کی یاد میں جلسہ منعقد کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس جلسہ سے سینئر قائدین کے علاوہ اراکین مجلس خطاب کریں گے اور مکہ مسجد بم دھماکے کے ملزمین کو ضمانت پر رہائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ان کی ضمانت کی منسوخی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ مسجد دھماکے کے بعد کی گئی پولیس فائرنگ کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ بھی تاحال پیش نہیں کی گئی ہے ۔ جس میں پانچ مسلم نوجوان شہید ہوگئے تھے ۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھاسکر راؤ کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لاتے ہوئے خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ واضح رہے کہ 2007 ء کے بعد سے مکہ مسجد دھماکے کی برسی بعض مخصوص انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے منائی جاتی رہی اور کسی سیاسی جماعت یا قائد نے مکہ مسجد دھماکے پر سالانہ جلسے منعقد نہیں کئے تھے ۔ جاریہ سال ماہ ڈسمبر میں عدالتی احکامات کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات منعقد ہونے ہیں اور شہر میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے عروج پر پہونچنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ قائد مجلس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ناانصافی کا تذکرہ کرتے ہوئے آلیر انکاؤنٹر کے علاوہ گوکل چاٹ اور لمبنی پارک بم دھماکے کے ساتھ ساتھ دلسکھ نگر جڑواں بم دھماکوں کا بھی تذکرہ کیا ۔