متنازعہ ریمارک’’بہار کی دلہنیں، ہریانہ کے دولہے‘‘ پر احتجاج

جے ڈی (یو) کانگریس اور آر جے ڈی ارکان کا بی جے پی لیڈر دھانکر کے استعفیٰ کا مطالبہ

پٹنہ ۔ 7 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جے ڈی (یو)، آر جے ڈی اور کانگریس نے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہار لیجسلیچر کے دونوں ایوانوں میں ہریانہ بی جے پی لیڈر پی دھانکر کے متنازعہ بیان کے خلاف زبردست احتجاج کیا جہاں انہوں نے ’’ہریانہ کے لڑکے کیلئے بہار کی دلہن ‘‘ جیسا ریمارک پاس کیا تھا ۔ احتجاج اتنا شدید تھا کہ دونوں ایوانوں کی کارروائیوں کو ملتوی کرنا پڑا جبکہ دوسری طرف بی جے پی اسی ریمارک کو تنازعہ ماننے تیار نہیں۔ یاد رہے کہ جے ڈی (یو) ، آر جے ڈی اور کانگریس نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں تینوں بی جے پی کا مقابلہ کریں گی۔ تینوں ہی پارٹیوں کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور دھانکر کے علاوہ ان کے قریبی دوست سشیل کمار مودی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دھانکر بی جے پی کسان مورچہ کے صدر ہیں۔ ہفتہ کے روز ہریانہ میں پارٹی ورکرس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک متنازعہ بیان دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی ریاستی انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہریانہ کے مردوں کو بہار سے دلہنیں لاکر ان کی شادی رچائی جائے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی ان کے خاص دوست ہیں اور اس سلسلہ میں وہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے ، یاد رہے کہ 2011 ء کی مردم شماری کے مطابق مردوں کے مقابلے خواتین کی تعداد کم ہے جہاں اوسطاً 879 خواتین کے مقابلے مردوں کی تعداد 1000 ہے ۔ جیسے ہی اسمبلی کا آغاز ہوا، آر جے ڈی ، جے ڈی (یو) اور کانگریس کے ارکان دھانکر کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور مطالبہ کیا کہ دھانکر اور سشیل کمار مودی فوری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کریں۔ لیجسلیٹیو کونسل میں بھی کم و بیش یہی منظر تھا۔ حالانکہ یہاں بی جے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں احتجاج کر کے نظر آئے لیکن یہاں ان کا احتجاج علحدہ نوعیت کا تھا جہاں ہاسپٹل کیلئے نقلی ادویات کی خریداری کیخلاف احتجاج کیا جارہا تھا جس سے حال ہی میں ایک مریض بھاگلپور میں فوت ہوگیا تھا ۔ جب اسپیکر کی ہدایت پر توجہ دینے کوئی تیار نہیں ہوا تو پہلے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے اور بعد ازاں دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ لیجسلیٹیو کونسل کی کارروائی بھی 2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔