برولا۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ تانترک رام پال کو آج رات اس کے آشرم سے گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے حامیوں اور پولیس کے درمیان دو ہفتوں سے جاری تشدد اور رسہ کشی ختم ہوگئی۔ پولیس نے اسے 15 ہزار حامیوں کے درمیان دبوچ لیا۔ 63 سالہ تانترک کو کل ہسار کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ڈی جی پی ایس ایم وششت نے کہا کہ رام پال کو پولیس آپریشن کے باعث تحویل میں دیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری پولیس کیلئے سخت مرحلہ ثابت ہوئی۔ پانی پت کے ایس پی کو بی ستیش بالن نے کہا کہ اس کارروائی میں پڑوسی ضلع حصار کے 5 سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی شامل تھے۔ اسے ستلوک آشرم سے گرفتار کیا گیا جہاں 4 خواتین پراسرار حالت میں فوت ہوگئی تھیں دیگر دو کو دواخانہ میں شریک کیا گیا ہے۔ عوام کی کثیر تعداد کی موجودگی کے باعث پولیس کو آشرم کے اندر پہنچنے میں مشکل ہوئی۔ پولیس عوام کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے یہ کارروائی کی۔ 12 ایکر پر پھیلے ہوئے اس کے آشرم میں جمع حامیوں کو اس نے انسانی ڈھال بنا رکھا تھا۔ اس کے بعد حامیوں ہنوز آشرم میں موجود ہے۔ ہریانہ پولیس نے اس کے خلاف کئی تازہ کیس درج کئے ہیں۔ عدالت نے اسے گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرنے کی جمعہ تک مہلت دی تھی۔
متنازعہ تانترک بابا رامپال کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی بات چیت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے حکام نے خود سپردگی کیلئے دباؤ ڈالنے کیلئے بابا اور ان کے حامیوں کے خلاف ملک کے خلاف جنگ اور دیگر سنگین الزامات (چارجس) عائد کئے ہیں جبکہ تصادم کے ایک دن بعد ہریانہ میں واقع بابا کے آشرم سے 4 خواتین کی نعشیں دستیاب ہوئی ہیں۔ ہریانہ ڈائرکٹر جنرل پولیس مسٹر ایس این وشیسٹ نے آج بتایا کہ رامپال ابھی تک آشرم میں روپوش ہے جس کی گرفتاری کیلئے پولیس کی کارروائی جاری رہے گی تاکہ توہین عدالت کیس میں جمعہ تک اسے ہریانہ ہائیکورٹ میں پیش کیا جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ بروالا ضلع حصار میں واقع آشرم کے منتظمین سے 4 خواتین کی نعشیں اور 2 بیمار افراد بشمول ا یک نومولود کو حوالے کردیا ہے۔ بعد ازاں وہ ہاسپٹل میں فوت ہوگئے ۔ ان کی اموات کی تحقیقات کی جا ئے گی ۔ پولیس اور رامپال کی خانگی فوج کے درمیان تصادم کے ایک دن بعد آشرم کا احاطہ جنگ کے میدان جیسا منظر آرہا ہے جبکہ آشرم سے سیکوریٹی اہلکاروں پر سنگباری اور پٹرول بم پھینکے گئے تھے ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ رامپال کے آشرم میں تقریباً 15000 حامی (چیلے) محصور تھے ، جن میں 10 ہزار افراد آشرم سے باہر نکل آگئے۔ آشرم کا تخلیہ کرنے والوں نے بتایا کہ رامپال کی خانگی فوج (پرائیویٹ آرمی) نے زبردستی انہیں روک رکھا تھا ۔ ڈی جی پی نے مزید بتایا کہ آشرم سے جن خواتین کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں، ان پر زخموں کے نشان نہیں ہیں
اور پولیس یہ تحقیقات کرے گی کہ کن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی ہے اور پوسٹ مار ٹم کی رپورٹ میں معلوم ہوگا کہ موت کی وجوہات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تازہ الزامات بشمول فساد بھڑکانے پر پولیس نے رامپال کے 270 حامیوں بشمول آشرم کے 20 کارکنوں خانگی فوج کے 20 ارکان کو حر است میں لے لیا گیا اور بعد تحقیقات انہیں باقاعدہ گرفتار کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ کل شب پولیس کی کارروائی (آپریشن) روک دیا گیا تاکہ آشرم سے باہر آنے والوں کیلئے آسانی ہوسکے ۔ تاہم پولیس آشرم کا محاصرہ جاری رکھے گی اور آگے کی کارروائی کو راز میں رکھا جائے گا۔