نئی دہلی ۔ 3 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جنتادل یو نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کو راجیہ سبھا میں نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کچھ قائدین جو اشتعال انگیز اور فرقہ پرستانہ بیانات دے رہے ہیں ان میں آیا وزیر اعظم بھی شریک ہیں ؟ یا پھر ان کی تاکید کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ سبرامنین سوامی ‘ سادھوی پراچی ‘ پروین توگاڑیہ اور کچھ دوسرے قائدین کے حالیہ اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جنتادل یو کے رکن پون ورما نے بی جے پی سے کہا کہ وہ اپنے اور اس کی ہم قبیل جماعتوں کے مابین امتیاز اور فرق کو ختم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی کے ویراٹ ہندو سمیلن میں گھر واپسی پروگرام کو جاری رکھنے سے متعلق ریمارک کیا گیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلمانوں اور ہندووں سے یہ کہتے ہوئے کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ ان کے آبا و اجداد ہندو تھے ان میں خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ مسٹر ورما نے اس تناظر میں واضح کیا کہ خود بی جے پی کے لیڈر سبرامنین سوامی نے بھی ایسا بیان دیا ہے اور انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے ۔ دہرہ دون میں اتوار کو ایک پروگرام کے دوران وشوا ہندو پریشد کی لیڈر سادھوی پراچی نے ‘ جو اپنے شرانگیز اور متنازعہ بیانات کیلئے جانی جاتی ہیں ‘
ہندو نوجوانوں سے کہا تھا کہ وہ شاہ رخ خان ‘ عامر خان اور سلمان خان کی فلموں کا بائیکاٹ کریں ۔ انہوں نے ہندو تنظیموں سے کہا تھا کہ اگر خان اداکاروں کی فلمیں ریلیز ہوتی ہیں تو ان کے پوسٹرس پھاڑ کر جلادئے جائیں۔ ان ریمارکس کا نوٹ لیتے ہوئے ورما نے سوال کیا کہ آیا وزیر اعظم کے بیانات اور تاکیدوں کا خود ان کی پارٹی کے قائدین پر اثر نہیں ہو رہا ہے یا پھر خود وزیر اعظم اس طرح کے بیانات میں شریک ہیں ؟ ۔ پون ورما نے کہا کہ نریندر مودی نے اس طرح کے بیانات کی مذمت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ایک کیتھولک چرچ تقریب میں کہا گیا تھا کہ تمام مذاہب مساوی ہیں اس کے باوجود اتوار کو بی جے پی اور وی ایچ پی کے قائدین نے اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بی جے پی سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنی ہم قبیل جماعتوں کے مابین فرق اور امتیاز کو ختم کردے ۔ دوسری اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس ‘ بائیں بازو کی جماعتوں اور سماجوادی پارٹی کے ارکان نے مسٹر پون ورما کے خیالات سے اتفاق کیا ہے ۔