نئی دہلی ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ اراضی بل کو آج لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا ۔ حکومت نے اس میں 9 ترمیمات کی ہیں اور حلیف جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی اس نے بھرپور کوشش کی ۔ اب حکومت کیلئے اس بل کی راجیہ سبھا میں منظوری کا مرحلہ آگیا ہے جہاں ارکان کی اکثریت اس بل کی مخالف ہے ۔ کانگریس ، ترنمول کانگریس ، سماج وادی پارٹی ، آر جے ڈی اور بی جے ڈی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا جبکہ این ڈی اے کی حلیف شیوسینا غیرحاضر رہی ۔ اراضی حصولیابی ، بازآبادکاری اور دوبارہ آبادکاری میں انصاف کے ساتھ معاوضے کا حق و شفافیت (ترمیمی) بل 2015 ء کو ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا ۔ ایک اور این ڈی اے حلیف سوابھیمنی پکشا نے ترمیم پیش کیا جسے قبول نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن کی برہمی کو کم اور بعض ناراض حلیفوں کو منانے کی کوشش کے طور پر حکومت نے 9 سرکاری ترمیمات کی ہیں ۔ اس کے علاوہ متنازعہ قانون سازی میں 2 استعارے شامل کئے گئے ہیں ۔ لوک سبھا میں اکثریت ہونے کے باوجود حکومت نے حلیف جماعتوں سے ربط قائم کیا اور پارٹی قائدین کو لمحہ آخر تک منانے کی کوشش جاری رہی ۔ اپوزیشن نے 52 ترمیمات پیش کی تھی جن کی نفی کی گئی یا ارکان نے ان پر زیادہ زور نہیں دیا ۔
اس بل کو اب راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا جہاں حکومت کا اصل امتحان ہے ۔ این ڈی اے کو راجیہ سبھا میں اقلیتی موقف حاصل ہے جبکہ اپوزیشن اس بل کے خلاف متحد ہے ۔ وہ اسے پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ بل پر غور و خوص کیلئے پیش کرنے سے قبل وزیر دیہی ترقیات بریندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی کئی تجاویز کو قبول کیا ہے ۔ ان میں گزشتہ تجاویز اپوزیشن کی ہیں ۔ وہ اپوزیشن کی مزید تجاویز کو قبول کرنے بھی تیار ہے بشرطیکہ یہ کسانوں کے مفادات میں ہو ۔ اس بل کو راجیہ سبھا میں ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جہاں این ڈی اے اقلیت میں ہے اور بعض حلیف جماعتیں بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں ۔
بریندر سنگھ نے بل پر جواب دیتے ہوئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ گزشتہ کئی سال تک وہ کسانوں کے مفادات کو نقصان پہونچاتی رہی ۔ انہوں نے ان کی تنقیدوں کے دوران کانگریس ارکان بالخصوص جیوتیردتیہ سندھیا اور دیپیندر ہوڈا کے ساتھ کئی بار لفظی بحث ہوگئی اور اسپیکر سمترا مہاجن کو مداخلت کرنی پڑی ۔ راجناتھ سنگھ نے ایک مرحلے پر وزیردیہی ترقیات سے خواہش کی کہ وہ ہندی میں بات کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ سامعین سمجھ سکیں ۔ قبل ازیں حکومت نے اپنی حلیف جماعتوں سے ربط قائم کرتے ہوئے بل کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اکالی دل نے جہاں حکومت کی تائید کی وہیں شیوسینا اور سوابھیمنی پکش نے بل کی تائید نہیں کی ۔ بی جے ڈی نے ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ رائے دہی میں حصہ نہیں لے گی کیونکہ اس کی تشویش کو دور نہیں کیا گیا ہے ۔ غیر این ڈی اے جماعتوں انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس نے اس بل کی تائید کی جس سے حکومت کو شیوسینا کی غیر حاضری کے باوجود حوصلہ ملا ۔ اناڈی ایم کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے اس بل کی تائید کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حکومت نے اس کے مطالبہ کو تسلیم کیا ہے ۔ ٹی آر ایس ذرائع نے بھی بتایا کہ ہم نے جو ترمیمات کی خواہش کی تھی حکومت نے اسے قبول کیا ہے لہذا اس بل کی تائید کا فیصلہ کیا گیا ۔ ٹی آر ایس کے 11 منجملہ 10 ارکان ایوان میں موجود تھے جبکہ ایک رکن شخصی وجوہات کی بنا غیرحاضر تھے۔