ابوظہبی۔ 26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) عالم عرب میں انتشار پر فکر مند متحدہ عرب امارات نے کہا کہ وہ دیگر ممالک سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہے تاکہ دولت اسلامیہ دہشت گرد کے سیاسی نظام کی اس علاقہ میں اشاعت کو روکا جاسکے۔ وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ انور بن محمد جرجاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات زیادہ طاقتور اور مستحکم نظام تشکیل دینے کا منتظر ہے تاکہ انتہا پسندی کے مقابلے میں تمام علاقائی ممالک ایک دوسرے کی تائید کرسکیں۔ انہوں نے داعش کی اشاعت پر متحدہ عرب امارات کی فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کا سیاسی نظام اس علاقہ کے لئے خطرہ ہے۔ متحدہ عرب امارات قومی ریاستوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کا منتظر ہے۔ یہ صرف ایک عرب ملک کیلئے خطرہ نہیں ہے۔ جرجاش پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات علاقائی کردار ادا کرنے کا منتظر نہیں ہے بلکہ چاہتا ہے کہ دیگر ممالک کی قومی اقدار کی یکجہتی کو برقرار رکھا جائے اور ان کے تحفظ کو فروغ دیا جائے تاکہ اس علاقہ میں خوشحالی کو فروغ حاصل ہوسکے جسے مسائل اور دردناک واقعات نے متاثر کر رکھا ہے۔ جرجاش نے عالم عرب میں انتشار کے عالم کی یکسوئی کیلئے تمام ممالک کے باہمی تعاون کے ذریعہ اس خطرناک رجحان کا متحدہ مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر نے کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو دولت اسلامیہ اور دیگر دہشت گرد گروپس کے شام اور عراق میں عروج کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال لیبیا میں بھی پیدا ہوسکتی ہے جو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے۔ جنہوں نے اخوان المسلمین کے نظریہ کو اختیار کرلیا ہے۔ جرجاش نے کہا کہ اخوان المسلمین کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے متحدہ جدوجہد ضروری ہے۔ یہ خطرہ اب بھی کئی عرب ممالک کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ماہ متحدہ عرب امارات میں اخوان المسلمین اور کئی دیگر اسلامی گروپس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ایک مستحکم موقف اخوان المسلمین کے خلاف اختیار کیا ہے کیونکہ مصر میں بہار عرب کے دوران اخوان المسلمین نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ ہر ایک کیلئے درس عبرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی دولت سے مالامال خلیجی پڑوسی صدر عبدالفتاح السیسی کے کٹر حامی ہیں۔ مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات سابق صدر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں اقتدار سے بے دخلی کے بعد مستحکم ہوگئے ہیں، لیکن جرجاش نے مصر پر زور دیا کہ وہ عالم عرب میں کلیدی کردار ادا کرے اور مضبوط موقف اختیار کرے۔ عالم عرب میں اعتدال پسند مصر زیادہ بہتر کردار ادا کرسکتا ہے۔