متحدہ ریاست کی تحریک آخری مرحلے میںداخل

وجئے واڑہ 19 جنوری ( پی ٹی آئی) وجئے واڑہ کے کانگریس رکن لوک سبھا لگڑا پاٹی راجگوپال نے آندھرا پردیش کے سیما آندھرا علاقہ سے تعلق رکھنے عوام پر زور دیا کہ وہ متحدہ ریاست کی تائید میں جاری اپنی تحریک میں مزید شدت پیدا کردیں۔ آندھرا پردیش جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام منعقدہ ایک راونڈ ٹیبل کانفرنس میں حصہ لیتے ہوئے لگڑا پاٹی نے کہا کہ متحدہ ریاست کی تحریک اب اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے اور سیما آندھرا عوام کی جانب سے اس میں مزید شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ریاست کی تقسیم کے ذریعہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کی کوششوں کو روکا جائے۔ لگڑا پاٹی راجگوپال نے سیما آندھرا کے چند کانگریس ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ اختیار کردہ اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران آندھرا پردیش تقسیم بل کے مسودہ بل پر بحث ہونے نہیں دیں گے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ وہ سیما آندھرا علاقہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے پارٹی کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ تلنگانہ بل پر اس کی موجودہ شکل میں مزید بحث نہیں کرے گا۔ اس موقع پر آندھرا پردیش نان گزیٹیڈ آفیسرس اسو سی ایشن (اے پی این جی اوز ) کے صدر پی اشوک بابو نے سیما آندھرا کے سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ ریاست کے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنے سیاسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے متحدہ ریاست کیلئے متحد ہوجائیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ عام انتخابات متحدہ آندھرا پردیش میں منعقد ہوں گے ۔ اشوک بابو نے اشارہ کیا کہ ایک معلق اسمبلی ریاست کی تقسیم کی ذمہ داری نہیں لے سکتی ۔ اور خبردار کیا کہ تقسیم کے مسئلہ پر نرم رویہ اختیار کرنے کی صورت میں ارکان اسمبلی خود اپنے حلقہ کی عوام کے اعتماد سے محروم ہوجائیں گے۔ اشوک بابو نے بالخصوص سیما آندھرا کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھیں جب تک مرکزی حکومت ریاست کی تقسیم سے متعلق اپنے فیصلے سے دستبردار ہوجائے۔