حیدرآباد۔/14مئی، ( سیاست نیوز) کشن باغ کے عرش محل علاقہ میں آج سکھ پرچم کو مبینہ طور پر نذر آتش کئے جانے کے نام پر پیدا شدہ تشدد کے نتیجہ میں بے قصور مسلمانوں کا نہ صرف زبردست جانی و مالی نقصان ہوا بلکہ کئی خاندان بری طرح متاثر ہوئے۔ تین اموات سے ایک ماں کی گود اجڑ گئی، ایک خاندان بے سہارا ہوگیا اور ایک لڑکی کا گھر آباد ہونے سے رہ گیا۔ ایک نئی نویلی دلہن بیوہ ہوگئی۔ عرش محل پولیس فائرنگ میں ہلاک فرید کی تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور گھر کا ذمہ دار لڑکا تھا۔ فرید پیشہ ڈرائیور تھا اور کال سنٹر کی گاڑی چلاتا تھا، اس کی بیوی حاملہ جو اپنے مائیکے گلبرگہ گئی ہوئی تھی۔ فرید کے والد محمد سلیمان نے بتایا
کہ فرید نے ان سے کہا تھا کہ ایک بہن کی شادی کی فکر مت کریں سخت محنت سے اس کی شادی کرنے کا اس نے بھروسہ دیا تھا۔ اس علاقہ کی ایک لڑکی اسریٰ بیگم کی شادی 25مئی کو مقرر تھی، اس لڑکی کے جہیز کا سامان اور ضروری اشیاء کی خریداری مکمل کرلی گئی تھی اور شادی کے اخراجات کی رقم بھی جو تقریباً ایک لاکھ روپئے بتائی گئی ہے مکان میں موجود تھی۔ عرش محل کی عوام بالخصوص خوفزدہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ املاک کو ہوئے نقصان کا افسوس نہیں رکھتے بلکہ انہیں اپنے محلہ کی بہو کے بیوہ ہونے اور بچوں کے بے سہارا ہونے کا غم کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ عرش محل کی عوام نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔