ماں نے بیٹے کے قاتل کو معاف کردیا

تہران۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے قاتل کو جبکہ اسے تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا تھا، جذباتی طمانچہ رسید کرتے ہوئے معاف کردیا۔ اس موقع پر ڈرامائی صورتحال دیکھنے میں آئی اور بلال نامی نوجوان کو ایک نئی زندگی ملی۔ تفصیلات کے بموجب بلال نے 2007ء میں ایک اور نوجوان عبداللہ حسین زادے کو لڑائی کے دوران چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا تھا۔ جرم ثابت ہونے کے بعد بلال کو نوشہر میں برسرعام پھانسی پر چڑھانے کی تیاری پوری کرلی گئی تھی۔ مقتول نوجوان کی ماں سمارا علی نژاد نے اس موقع پر وہاں پہونچ کر عوام سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ تنہا گھر میں کس طرح زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

اس خاتون کے ایک اور بیٹے کی سڑک حادثہ میں چار سال قبل موت واقع ہوگئی تھی۔ سمارا علی نژاد نے بلال کے قریب پہنچ کر اس کے چہرے پر ایک تھپڑ مارا اور گردن سے پھانسی کا پھندہ نکال دیا۔ یہ ایک عجیب و غریب جذباتی منظر تھا۔ اس وقت سمارا نے کہا کہ وہ اللہ پر یقین رکھتی ہیں اور انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کا بیٹا خوش و خرم ہے چنانچہ انہوں نے قاتل کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلال نے جسے نئی زندگی ملی، کہا کہ یہ تھپڑ انتقام اور معافی کے درمیان حد فاصل تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے قریب چاقو نہ رکھیں اور حسرت بھرے انداز میں کہا کہ اگر یہ تھپڑ مجھے پہلے مارا جاتا تو شاید میں اپنے ساتھ چاقو نہ رکھتا اور میرے ہاتھوں کوئی ہلاک نہ ہوتا۔