مالیا کے خلاف ایل او سی میں تبدیلی غلطی ہوئی : سی بی آئی

نئی دہلی ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی نے آج کہا کہ 2015ء کی لک آوٹ سرکولر (ایل او سی) جو شراب کے بڑے تاجر وجئے مالیا کے خلاف جاری کی گئی تھی، کہ انہیں دیکھتے ہی حراست میں لے لیا جائے، اس میں یہ تبدیلی کرنا کہ صرف ان کی نقل و حرکت کے تعلق سے اطلاع دی جائے، فیصلے کی غلطی ہوئی کیونکہ وہ اس وقت تحقیقات میں تعاون کررہے تھے اور ان کے خلاف کوئی وارنٹ نہیں تھا۔ تین سال بعد جب یہ تنازعہ جمعرات کو منظرعام پر آیا، سی بی آئی کے ذرائع نے کہا کہ جب پہلی لک آوٹ سرکولر 12 اکٹوبر 2015ء کو جاری کی گئی، مالیا پہلے ہی بیرون ملک تھے۔ ان کی واپسی پر ایجنسی سے بیورو آف امیگریشن نے دریافت کیا کہ آیا مالیا کو محروس کیا جائے جیسا کہ ایل او سی میں استدعا کی گئی ہے، جس پر سی بی آئی نے کہا کہ انہیں گرفتار یا محروس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ایم پی ہیں اور ان کے خلاف کوئی وارنٹ نہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ایجنسی صرف ان کی نقل و حرکت کے تعلق سے معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی۔ علاوہ ازیں تحقیقات ابتدائی مرحلہ میں تھیں اور سی بی آئی 900 کروڑ روپئے کے قرض کی عدم ادائیگی کے کیس میں آئی ڈی بی آئی سے دستاویزات جمع کررہی تھی۔ سی بی آئی نے مالیا کے خلاف تازہ ایل او سی نومبر 2015ء میں جاری کرتے ہوئے ملک بھر کے ایرپورٹ حکام کو مالیا کے تعلق سے مطلع کیا کہ اگر وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش کرے تو انہیں روک لیا جائے۔ چنانچہ ایجنسی نے کہا کہ نوٹس میں تبدیلی ایک طرح سے فیصلہ کی غلطی ہوئی۔