اقلیتی بہبود کا نصف بجٹ ہی جاری ، مابقی بجٹ سرکاری خزانہ کے حوالے ہونے کا امکان
حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) مالیاتی سال 2014-15 کے اختتام کیلئے صرف 30دن باقی رہ گئے ہیں اور تلنگانہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو ابھی تک الاٹ کردہ بجٹ کا نصف حصہ ہی جاری کیا ہے۔ 2014-15 کیلئے حکومت تلنگانہ نے اقلیتی بہبود کا بجٹ 1034کروڑ روپئے مختص کیا تھا تاہم ابھی تک 532کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ جہاں تک رقم کو خرچ کرنے کا سوال ہے، تمام اقلیتی اداروں نے 175کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ جاریہ کئی اسکیمات کے سلسلہ میں لمحہ آخر میں بجٹ کی اجرائی کے سبب توقع کی جارہی ہے کہ مالیاتی سال کے اختتام تک تقریباً400کروڑ روپئے خرچ ہوپائیں گے۔ اس طرح باقی بجٹ سرکاری خزانہ میں رہ جائے گا اور قواعد کے مطابق اسے آئندہ مالیاتی سال کے خرچ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔حکومت نے جاریہ ماہ مختلف اسکیمات کیلئے 300کروڑ سے زائد جاری کئے جن میں سبسیڈی فراہمی اسکیم کیلئے 92کروڑ ، فیس باز ادائیگی کیلئے 160کروڑ، اسکالر شپس کیلئے 35کروڑ اور دیگر اداروں کیلئے بجٹ شامل ہے۔ اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی اسکیمات چونکہ جاریہ ا سکیمات میں شمار کی جاتی ہیں لہذا ان کیلئے جاری کردہ رقومات کے خرچ کا امکان ہے جبکہ سبسیڈی کی فراہمی اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ کے سلسلہ میں جاری کی گئی رقم سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائے گی کیونکہ حکومت نے ابھی تک ان اسکیمات کیلئے رہنمایانہ خطوط طئے نہیں کئے ہیں۔ کسی بھی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ صرف بجٹ کی منظوری سے لگایا نہیں جاسکتا بلکہ بجٹ کی اجرائی اور خرچ حکومت کی سنجیدگی کو ثابت کرتے ہیں۔ 1034کروڑ کے بجٹ میں 532کروڑ کی اجرائی اور صرف 175کروڑ کے خرچ کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کا نصف بجٹ واپس ہوجائے گا۔ حکومت نے شادی مبارک اسکیم کیلئے 100کروڑ کا اعلان کیا تھا لیکن ابتداء میں صرف 20کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ بعد میں اسے گرین چینل میں شامل کردیا گیا جہاں درخواست کی منظوری کے ساتھ سرکاری خزانہ سے امدادی رقم جاری کردی جاتی ہے۔