لیما۔ 14؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ماحولیات کے موضوع پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آج یہاں منعقدہ طوفانی مذاکرات میں کاربن کے اخراج میں عالمی سطح پر تخفیف کے لئے مختلف ملکوں کے قومی عہد اور وعدوں پر ایک مفاہمت شدہ مسودہ منظور کرلیا گیا۔ ان مذاکرات میں ہندوستان کی تشویش اور تمام تجاویز کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے مسودہ میں شامل کیا گیا جس کے ساتھ ہی ایک نئی پُرعزم اور قابل پابندی سمجھوتہ کی راہ ہموار ہوگئی ہے جس پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے آئندہ سال پیرس میں منعقد شدنی عالمی کانفرنس میں دستخط کئے جائیں گے۔ میزبان ملک پیرو کے وزیر ماحولیات مانوئیل پلگاروائیڈال نے اپنے قومی دارالحکومت میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری 194 ملکوں کے طوفانی مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ دستاویز منظور کرلی گئی ہے۔ مسٹر مانوئیل پلگاروائیڈال نے جو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات کے سربراہ بھی ہیں، مزید کہا کہ میرے خیال میں یہ بہت ٹھیک ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ہماری پیشرفت ہوئی ہے۔ مسودہ پر تبصرہ کرتے ہوئے پرکاش جاؤڈیکر نے کہا کہ ہندوستان کی تشویش اور اس کی طرف سے پیش کردہ تمام تجاویز قبول کرلی گئی ہیں۔ 2015ء میں سمجھوتہ پر دستخط اور 2020ء سے اس پر عمل آوری کے لئے اس مسودہ کو مندوبین کی طرف سے دی گئی منظوری کے بعد پرکاش جاؤڈیکر نے کہا کہ ہم نے اپنا مقصد پورا کرلیا ہے اور ہم نے وہ سب حاصل کرلیا جو ہم چاہتے تھے۔ انھوں نے آئندہ سال منعقد شدنی اجلاسوں اور پیرس کانفرنس پر بھی مشتبہ خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اس (لیما مسودہ) پر قائم رہیں گے اور اتفاق رائے پیدا کریں گے۔
لیما کے اس اجلاس میں جو مقررہ مدت سے دو دن سے زائد جاری رہا، یہ مسودہ منظور کیا گیا جس کے ساتھ ہی عالمی ماحولیاتی تبدیلی پر پیرس میں آئندہ سال سمجھوتہ پر دستخط کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ مندوبین اگرچہ یہ محسوس کررہے ہیں کہ مستقبل میں سخت اور دشوار گزار عمل سے گزرنا ہوگا۔ طئے شدہ مسودہ کو ’’ماحولیاتی اقدام کے لئے لیما کی پکار‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے ماحولیات کی تاریخ میں ایک تاریخی سمجھوتہ کی بصیرت دی گئی۔ پہلے تیار شدہ مسودہ کو ترقی پذیر ملکوں کی جانب سے مسترد کئے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ مسودہ تیار کیا گیا، کیونکہ ترقی پذیر ممالک نے الزام عائد کیا تھا کہ دولت مند ممالک، عالمی حدت سے مقابلہ کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کی قیمت ادا کرنے سے خود کو بَری الذمہ کررہے ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ قطعی مسودہ میں ترقی پذیر ممالک کی تشویش کو دُور کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ممالک پر یکساں اور مشترکہ، لیکن مختلف و جداگانہ ذمہ داریاں ہیں۔ مسودہ پر رات بھر طوفانی بحث کے بعد اتوار کی صبح اتفاق و منظوری کے اعلان پر مندوبین نے اطمینان کی سانس لی، کیونکہ 12 روزہ یہ اجلاس مسودہ پر اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکتا تھا اور مجبوراً اس میں دو دن کی توسیع کی گئی تھی۔ تاہم ماحولیاتی تنظیموں نے اس مسودہ کو کمزور اور غیر مؤثر مفاہمت قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کمزور ہوں گے۔