ماتوشری کے عقبی حصہ میں داخل ہونے پر بھی دفن کردیا جائیگا

ممبئی ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں کانگریس لیڈر نارائن رانے کے خلاف کامیابی سے سرشار شیوسینا نے آج کہا ہیکہ جو کوئی بھی ٹھاکرے کی قیامگاہ ماتوشری میں عقبی حصہ سے داخل ہونے کی جرأت کرے گا اسے دفن کردیا جائے گا اور ہرگز معافی نہیں دی جائے گی۔ کانگریس کے 63 سالہ طاقتور لیڈر رائے کو حلقہ اسمبلی باندرہ (مشرق) سے حکمران شیوسینا امیدوار تروپتی ساونت کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ اندرون 6 ماہ ان کی یہ دوسری شکست ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ اگر نارائن رانے تیسری مرتبہ بھی انتخابی مقابلہ کریں گے تو ناکامی سے دوچار ہوجائیں گے۔ پارٹی ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہیکہ اس انتخابات سے یہ عبرت ملتی ہیکہ جو کوئی بھی ماتوشری (ٹھاکرے خاندان کی قیامگاہ) کے عقبی حصہ میں آئے گا وہ دفن ہوجائے گا

اور اسے معافی نہیں دی جائے گی۔ یہ نشست شیوسینا لیڈر بالا ساونت کی موت کے باعث مخلوعہ ہوگئی تھی۔ ضمنی انتخابات بلا مقابلہ ہونا چاہئے تھا لیکن ایک متکبر شخص کو ہمارے حلاف کھڑا کردیا گیا اور کانگریس عوام کے روبرو بے نقاب ہوگئی۔ ضمنی انتخابات میں تروپتی سانوت نے 52,711 ووٹ اور نارائن رانے نے 33,703 ووٹ حاصل کئے جبکہ مجلس اتحادالمسلمین کے امیدوار رہبر خان نے 15,050 ووٹ حاصل کرکے تیسرا مقام پایا۔ گذشتہ سال کے اسمبلی انتخابات میں نارائن رانے کو 10 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست ہوئی تھی بلکہ اس مرتبہ یہ فرق دوگنا ہوگیا۔ شیوسینا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہیکہ وہ تیسری مرتبہ بھی مقابلہ کریں گے تو ووٹوں کا تناسب مزید گھٹ جائے گا۔ دریں اثناء ایک مرہٹی روزنامہ پراہار، جس کی ادارتی مشیر نارائن رانے ہے، باندرہ کے ضمنی انتخابات میں کانگریس لیڈر کی شکست کیلئے پارٹی کے سینئر قائدین کو موردالزام ٹھہرایا ہے۔