نظام ششم محبوب علی پاشاہ کے تعمیر کردہ سیف آباد محل ( سکریٹریٹ ) کے ایچ ، کے اور ایل بلاکس بھی الاٹ،تاریخی آثار کو آندھرا والوں کے حوالے نہ کرنے انٹاک کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے اعلان اور پھر تلنگانہ و سیما آندھرا کے لیے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ حیدرآباد چونکہ دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہوگا اس میں کس کا اثر ہوگا ؟ تلنگانہ والوں کا دبدبہ ہوگا یا پھر آندھرا والوں کا اثر و رسوخ کام کرے گا ۔اسی طرح سیما آندھرا کی اسمبلی کے بارے میں بھی اسی طرح کے خیالات پائے جاتے تھے ۔ ایک اور سوال یہ بھی اٹھایا جارہاتھا کہ سیما ۔ آندھرا کے نو منتخب چیف منسٹر کا کیمپ آفس کہاں ہوگا ؟ اس بارے میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس میں فیصلہ کردیا ہے جس کے مطابق سوماجی گوڑہ میں واقع راج بھون کے بالکل قریب سرسبز و شاداب وسیع و عریض لیک ویو گیسٹ ہاوز ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کا کیمپ آفس ہوگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح حیدرآباد 10 سال کے لیے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہوگا اسی طرح لیک ویو گیسٹ ہاوز میں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کا کیمپ آفس بھی دس سال تک ہی کام کرے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف متبادلات کا جائزہ لینے کے بعد سیکوریٹی ونگ نے گورنر کو مشورہ دیا کہ وہ لیک ویو گیسٹ ہاوز کو آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کے کیمپ آفس میں تبدیل کردیں
کیوں کہ سیکوریٹی کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کے لحاظ سے بھی یہ عمارت انتہائی موزوں اس کے علاوہ اس کا محل وقوع بھی غیر معمولی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ لیک ویو گیسٹ ہاوز کو ریاستی حکومت ، بیرون ریاست سے آنے والی انتہائی اہم شخصیتوں کو قیام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری گیسٹ ہاوز کی حیثیت سے استعمال کرتی آرہی ہے ۔ لیک ویو گیسٹ ہاوز اپنے محل وقوع وسیع و عریض رقبہ سرسبز و شادابی کے باعث قیام کے لیے سرکاری مہمانوں کی پہلی پسند بنا ہوا ہے ۔ جہاں تک بیگم پیٹ میں موجودہ چیف منسٹر کی قیام گاہ اور کیمپ آفس کا سوال ہے ۔ یہ عمارت تلنگانہ کے نئے چیف منسٹر کو الاٹ کی جائے گی ۔ اس طرح جوبلی ہال کی خوبصورت عمارت میں آندھرا پردیش قانون ساز کونسل کا پہلا اجلاس منعقد کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ حال ہی میں پرنسپال سکریٹری محکمہ عمارات و شوارع نے گورنر کو دفاتر معتمدین میں عمارتوں کے الاٹمنٹ سے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد میں 179 محکمہ جات کے دفاتر ہیں ۔ سکریٹریٹ جو کبھی سیف آباد پیالیس کہلاتا تھا ۔ نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں کے دور میں اس کی تعمیر عمل میں لائی گئی تھی ۔ اس قدیم پیالیس میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت نئی عمارتیں تعمیر کروائی گئیں اس کے باوجود حیدرآباد دکن کی قدیم عمارتوں کا کسی بھی لحاظ سے مقابلہ نہیں کیا جاسکا ۔
این ٹی راما راو کے دور میں ہر عمارت کا ایک تلگو نام بھی دیا گیا تھا ۔ لیکن اب انہیں انگریزی حروف تہجی کے حساب سے پکارا جاتا ہے ۔ اسمبلی میں اے ، بی ، سی ، ڈی ، جی ، ایچ ، جے ، کے اور ایل بلاکس ہیں ۔ پرنسپال سکریٹری محکمہ عمارات و شوارع نے تمام محکمہ جات کے صدور سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جس کے بعد اے ، بی ، سی ، ڈی بلاکس تلنگانہ اور ایچ ، کے ، ایل بلاکس آندھرا پردیش کو الاٹ کرنے کی سفارش کی ۔ سکریٹریٹ اور قانون ساز اسمبلی میں تزئین نو کا کام جاری ہے ۔ جو مقررہ مدت سے قبل ہی پائے تکمیل کو پہونچے گا ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گورنر نے سینئیر حکام کو شخصی طور پر تعمیری کام اور چیمبرس کے الاٹمنٹ کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
انہوں نے لیجسلیٹیو سکریٹری ڈاکٹر ایس راجہ سدارام کو اس بات کی بھی ہدایت دی ہیکہ قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسلوں کی عمارتیں 20 مئی تک بالکل تیار رکھیں ۔ قبل ازیں گورنر نے قانون آندھرا پردیش تشکیل جدید 2014 کے پیش نظر قائم کردہ تمام کمیٹیوں کی سفارشات قبول کرلی ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام سفارشات کو چیف سکریٹری مرکز کو پیش کریں گے ۔ توقع ہے کہ مرکزی معتمد داخلہ مئی کے دوسرے ہفتہ میں حیدرآباد آنے والے ہیں اور ان کے توسط سے مرکزی حکومت کو دونوں ریاستوں کے مسائل کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ اس ضمن میں بتایا جاتاہے کہ گورنر نے اعلیٰ عہدیداروں سے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے ۔ اسپیشل چیف سکریٹری نے دونوں ریاستوں کی ترقی کے لیے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی ہے ۔
یہ ایسے اقدامات ہیں جو شیڈول XIII اور دفعہ 93 کے تحت کئے جائیں گے ۔ رپورٹ میں تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے علاوہ 12 نئے انفراسٹرکچر پراجکٹس کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں ۔ دوسری طرف نئی دہلی کے آندھرا بھون میں کمروں کی تقسیم کے بارے میں بھی گورنر نے اپنا ذہن تیار کرلیا ہے ۔ آندھرا بھون کے ریزیڈنٹ کمشنر نے پہلے ہی ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ قواعد کے مطابق ہی نئی ریاستوں کے لیے کمرے مختص کئے جائیں گے ۔ لیکن دوسری جانب نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیرٹیج (INTACH) حیدرآباد چیاپٹر کے کنوینر پی انورادھا ریڈی نے آندھرا پردیش کے لیے تلنگانہ کے تاریخی عمارتوں کو حوالے کرنے کے منصوبوں کی مذمت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ لیک ویو گیسٹ ہاوز اور جوبلی ہال سابق ریاست حیدرآباد دکن کے تاریخی آثار ہیں ۔ ان کا سوال ہے کہ آخر آندھرا پردیش کو 10 سال کے لیے بھی یہ تاریخی عمارتیں کیوںکر دی جاسکتی ہیں ۔ اگر آندھرا والے ان عمارتوں میں تبدیلیاں لائیں گے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ یا پھر وہ ان عمارتوں کو تباہ کردیں گے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا ؟ ۔۔