لیونی سمیت کئی وزراء کا مستعفی ہونے کا اعلان

یروشلم۔ 25 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخلوط حکومت میں اتوار کو اسرائیل کو یہودی مملکت قرار دینے سے متعلق ایک متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد سخت مخالفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد وزیر قانون و انصاف زیپی لیونی سمیت کئی دوسرے وزراء نے استعفٰی دینے کا اعلان کیا ہے۔عبرنی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں لیونی نے کہا کہ انہیں اسرائیل کو ’’یہودیوں کا قومی وطن‘‘ قرار دینے کے قانون سے سخت اختلافات ہیں۔ اس متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد وہ حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتی۔ وہ چہارشنبہ تک اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدیں گی۔ایک سوال کے جواب میں لیونی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے سے جمہوری اصول کی نفی ہوئی ہے جس سے دنیا بھر میں اسرائیل کی جمہوریت پسندی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی کابینہ نے حالیہ اجلاس میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دیے جانے سے متعلق ایک مسودہ قانون کی منظوری دی تھی۔ اس متنازعہ قانون کی حمایت میں کابینہ کے 14 وزراء نے حمایت جبکہ چھ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ مخالفت کرنے والوں میں وزیر انصاف زیپی لیونی اور دیگر وزراء بھی شامل ہیں۔ایک سوال کے جواب میں لیونی نے کہا کہ وہ چہارشنبہ کو اس مسودہ قانون پر ہونے والی مزید بحث کے دوران خصوصی اجلاس میں اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نیتن یاہو کو پیش کر دیں گی۔ انہیں توقع ہے کہ نیتن یاہو ان کا استعفیٰ قبول کر لیں گے۔