لیبیا میں مصری، اماراتی سفارت خانوں کے قریب بم دھماکے

طرابلس ، 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں آج متحدہ عرب امارات اور مصر کے سفارت خانوں کے قریب بم دھماکے ہوئے ہیں۔ ابھی تک ان حملوں میں جانی و مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ مصر اور یو اے ای نے بھی دیگر ممالک کی طرح طرابلس سے اپنا سفارتی عملہ اُس وقت واپس بلا لیا تھا، جب موسم گرما میں اِس افریقی ملک کے دارالحکومت پر قبضے کیلئے متحارب گروپوں کے درمیان جاری جھڑپوں نے شدت اختیار کر لی تھی۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق بم دھماکے سے مصری سفارت خانے کی قریبی عمارتوں اور دکانوں کو معمولی سا نقصان پہنچا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ سفارت خانہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے کہ نہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ ابھی تک وثوق سے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ دہشت گردوں کا نشانہ سفارت خانے ہی تھے یا پھر ان کے محافظ۔ گزشتہ روز کار بم دھماکوں میں تقریباً چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دوران دہشت گردوں نے زیادہ تر اُن ہی شہروں کو نشانہ بنایا تھا، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ لیبیا کی منتخب کردہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے عبوری دارالحکومت مشرقی شہر تبروک منتقل کر رکھا ہے

اور طرابلس میں قائم اسلام پسندوں کی متوازی حکومت کی وجہ سے ان دونوں شہروں کے مابین صورتحال بھی کشیدہ ہیں۔ 2011ء میں معمر قذافی کی معزولی اور ہلاکت کے بعد سے لیبیا شدید بدامنی کا شکار ہے۔ ملک کے مسلح جنگجو گروپ متحارب ہیں۔ اس سے طرابلس میں حالات اس قدر خراب ہوئے کہ منتخب حکومت کو اپنا مرکز تبروک بنانا پڑ گیا۔ اب وہیں سے وزیر اعظم عبداللہ الثنی حکومتی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی دوران امریکہ نے اپنا سفارت خانہ بند کرتے ہوئے تمام عملے کو پڑوسی ملک تیونس منتقل کر دیا ہے۔