لگڑا پاٹی کی وضاحت میں معذرت کے بجائے مدافعت کی مذمت

حیدرآباد ۔ 15 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر پونم پربھاکر نے کہا کہ سیما۔ آندھرا کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے برطرف رکن پارلیمنٹ سبم ہری اور دوسرے رکن پارلیمنٹ نے ایوان میں زہر پینے کی کوشش کی تھیں، جنہیں ہم نے روکا ہے۔ تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ ایم وینو گوپال ریڈی پر شیطانی حرکت کرنے کا الزام عائد کیا۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ لگڑا پاٹی مرچ پاؤڈر کا استعمال کرتے ہوئے ایوان میں دہشت پھیلائی ہے۔ اپنی غلطی کو قبول کرتے ہوئے قوم سے معذرت خواہی کرنے کے بجائے اس کی مدافعت کرنے کی سخت مذمت کی اور پارلیمنٹ میں رونما ہوئے واقعہ کا ویڈیو فوٹیج منظرعام پر لانے کا اسپیکر لوک سبھا سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک ستہ کے صدر مسٹر جئے پرکاش نارائن پر حملہ کے موقع پر یوم سیاہ قرار دینے والے پارلیمنٹ کے واقعہ پر خاموشی اختیار کررہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے جمہوری اقدار کا ان کے پاس کتنا پاس و لحاظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے روکنے کیلئے سیما۔

آندھرا کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک منظم سازش کے تحت قوم کو رسواء کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان پر حملہ کرنے کی تردید کی اور کہا کہ سیما۔ آندھرا کا رویہ چور مچائے شور کے مماثل ہے۔ پونم پربھاکر نے کانگریس پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کرن کمار ریڈی کو فوری چیف منسٹر کے عہدے سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا یا کانگریس ہائی کمان کو انہیں برطرف کردینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تلنگانہ سے چھوٹی 16 ریاستیں ہیں۔ سیما۔ آندھرا کے عوام کو ریاست کے تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے صرف سرمایہ دار کانگریس قائدین علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کی مخالفت کررہے ہیں۔