لو جہاد : ہائیکورٹ کی حکومت یوپی اور الیکشن کمیشن سے جواب طلبی

لکھنو۔ 4 ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) الہٰ آباد ہائیکورٹ نے آج حکومت اُترپردیش اور الیکشن کمیشن کو جواب داخل کرنے کیلئے 10دن کی مہلت دی ۔ ایک درخواست مفاد عامہ پر جس میں لفظ ’’لو جہاد‘‘ استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کی خواہش کی گئی تھی اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروائی کی گذارش کی گئی تھی ، ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کو نوٹسیں جاری کردیں۔ جسٹس امتیاز مرتضیٰ اور جسٹس اشونی کمار سنگھ پر مشتمل ایک بنچ نے ایک شخص پنکج تیواری کی درخواست مفاد عامہ پر الیکشن کمیشن آف انڈیا حکومت یوپی ، رکن پارلیمنٹ آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر کلراج مشرا کو نوٹسیں جاری کردیں۔ درخواست میں ان تمام کو مدعی علیہان بنایا گیا ہے ۔ درخواست گذار نے وکیل سی بی پانڈے کے توسط سے درخواست پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک نئی قسم کی فرقہ پرستی لو جہاد کے نام پر پھیلائی جارہی ہے ۔ انھوں نے لفظ لو جہاد کے استعمال پر پابندی عائد کرنے اور آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروائی کرنے کی گذارش کی ۔ درخواست گذار نے مرکزی وزیر کلراج مشرا پر بھی اسمبلی یا لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم چلانے پر بھی پابندی عائد کرنے کی درخواست کی ۔ انھوں نے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو ہدایت دینے کی گذارش کی جو فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانے کے مقصد سے قائم کی جانے والی ہے ۔ ریاستی حکومت کے وکیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل کی درخواست پر ہائیکورٹ میں جواب داخل کرنے کیلئے 10 دن کی مہلت دی اور مقدمہ کی سماعت 15 ستمبر کو مقرر کردی ۔