کل جماعتی اجلاس میں اسپیکر سمترا مہاجن کا اظہار ناراضگی
نئی دہلی 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا کے اندر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے پلے کارڈس دکھانے اور ہنگامہ آرائی کرنے سے نالاں اسپیکر سمترا مہاجن نے تمام پارٹی کے قائدین کو حتمی طور پر کہاکہ ایوان کا امیج بُری طرح متاثر ہورہا ہے اور اس پر کاری ضرب پڑرہی ہے اور اس معاملہ میں جائزہ لینے کے لئے رولز کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ ذرائع نے آج یہ بات بتائی۔ لوک سبھا کی کارروائی میں جمعرات کو مسلسل ساتویں دن خلل اندازی کی گئی جس میں مختلف قائدین کی جانب سے شوروغل کیا گیا اور مختلف پارٹیوں کے قائدین کے درمیان جھگڑا ہوا۔ تمام پارٹیوں کے قائدین بشمول ایوان میں کانریس لیڈر ملکارجن کھرگے اور وزیر پارلیمانی اُمور نریندر سنگھ ٹومر کے ساتھ ایک اجلاس میں سمترا مہاجن نے لوک سبھا کارروائی میں متواتر خلل اندازی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ لوک سبھا کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہاکہ اسپیکر نے قائدین کو بتایا کہ ایوان کا امیج متاثر ہورہا ہے اور اسے صرف ایک ایسی جگہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں صرف شوروغل اور ہنگامہ ہوتا ہے جہاں کچھ بھی پوچھا جاسکتا ہے، نہ سنا جاسکتا ہے۔ ایوان کی موجودہ صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسپیکر نے لوک سبھا کی رولز کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس کی وہ خود صدر ہیں۔ رولز کمیٹی لوک سبھا کی کارروائی چلانے میں قواعد بنانے اور اس میں ترمیم کرنے کے سلسلہ میں انھیں صلاح و مشورہ دینے والی ایک مشاورتی کمیٹی ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی پھر متاثر ‘ لوک سبھا میں دو بلز منظور
نئی دہلی 20 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ کو آج دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا جبکہ لوک سبھا میں دو بلز منظور کئے جاسکے تاہم راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا ۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ہی ایوانوں میں مختلف مسائل پر ہنگامہ اور شور شرابہ کیا جا رہا تھا ۔ دونوں ہی ایوانوں میں رافیل مسئلہ پر اور کاویری آبی تنازعہ پر گڑبڑ ہو رہی تھی جبکہ کچھ گوشوں کی جانب سے دوسرے مسائل بھی اٹھائے گئے ۔ لوک سبھا میں آج جو دو بل منظور کئے گئے ان میں صارفین کے تحفظ کا بل 2018 اور معذورین سے متعلق ایک بل بھی شامل ہے ۔ راجیہ سبھا میں ٹاملناڈو کی جماعتوں اے آئی اے ڈی ایم ‘ ڈی ایم کے کے ارکان نے مسلسل نعرہ بازی کی اور ایوان کے وسط میں پہونچ گئے ۔ یہ ارکان کاویری آبی تنازعہ پر احتجاج کر رہے تھے ۔ یہ احتجاج عین اسی وقت شروع ہوگیا جیسے ہی ایوان کی کارروائی صبح شروع ہوئی تھی ۔ اپوزیشن کانگریس ارکان نے بھی نعرہ بازی کی اور رافیل معاملت پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے جواب میں برسر اقتدار جماعت کے ارکان نے بھی نعرہ بازی کی اور انہوں نے رافیل معاملت پر غلط بیانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس صدر راہول گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ صدر نشین راجیہ سبھا وینکیا نائیڈو نے کہا کہ تمام مسائل پر ایوان میں مباحث ہونے چاہئیں اور کام کاج کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی مسائل زیر التوا ہیں ۔ اہمیت کے حامل بلز پر مباحث ہونے چاہئیں اور ان پر غور کیا جانا چاہئے ۔ ان کی اپیلوں پر ارکان نے کوئی توجہ نہیں دی اور وہاں موڈ کو دیکھتے ہوئے صدر نشین نے کارروائی کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا ۔ لوک سبھا میں بھی کارروئی صبح کے وقت اور بعد میں بھی متاثر رہی جہاں ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کاویری مسئلہ پر نعرہ بازی کی ۔ ایوان میں جب کانگریس کی جانب سے رافیل معاملت کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کانگریس اور ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے ارکان ایوان کے وسط میں آگئے اور انہوں نے کاویری تنازعہ پر اپنا احتجاج درج کروایا ۔ تلگودیشم ارکان نے اے پی کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر احتجاج کیا ۔