لوک سبھا و اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس و ٹی آر ایس کا بعض حلقوں میں دوستانہ مقابلہ

اہم قائدین کے خلاف دونوں جماعتوں کے کمزور امیدوار، کے سی آر ،پنالہ لکشمیا اور دیگر کی کامیابی یقینی

حیدرآباد۔/12اپریل، ( سیاست نیوز) مجوزہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں اگرچہ ٹی آر ایس اور کانگریس تنہا مقابلہ کررہے ہیں تاہم بعض حلقوں میں دونوں پارٹیوں کا دوستانہ مقابلہ ہے۔ اہم قائدین کے خلاف دونوں پارٹیوں نے کمزور امیدواروں کو میدان میں اُتار کر دوستانہ مقابلہ کا اشارہ دیا ہے جبکہ ٹی آر ایس نے کانگریس کے ان اہم قائدین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو چیف منسٹر کی دوڑ میں ہیں یا پھر جنہوں نے کھل کر ٹی آر ایس اور اس کی قیادت کے خلاف آواز اُٹھائی۔ حلقہ لوک سبھا میدک سے ٹی آر ایس سربراہ کی کامیابی کو کانگریس نے عملاً یقینی بنادیا۔ ٹی آر ایس کی باغی قائد وجئے شانتی اس حلقہ سے کے سی آر کے خلاف مقابلہ کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن پارٹی نے انہیں لوک سبھا کے بجائے میدک اسمبلی حلقہ سے امیدوار بنایا ہے جبکہ کے سی آر کے خلاف ایک غیرمعروف قائد کو میدان میں اُتارا گیا۔ اسی طرح کریم نگر کے سرسلہ اسمبلی حلقہ میں کے سی آر کے فرزند کے ٹی راما راؤ کے خلاف بھی ایک کمزور امیدوار کو کانگریس نے میدان میں اُتارا ہے۔پارٹی نے سابق ضلع کانگریس صدر کے رویندر ریڈی کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ گذشتہ انتخابات میں کے مہیندر ریڈی کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔ مہیندر ریڈی کے خلاف کے ٹی راما راؤ نے صرف 171 ووٹ کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار پارٹی نے مہیندر ریڈی کے بجائے ایک کمزور امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے۔ دوسری طرف ٹی آر ایس نے بھی بعض قائدین کی کامیابی کی راہ ہموار کی تو بعض قائدین کے خلاف مضبوط امیدوار کھڑا کئے ہیں۔ چیف منسٹر کی دوڑ میں موجود سابق وزیر جانا ریڈی کے خلاف حلقہ اسمبلی ناگرجنا ساگر سے سی پی ایم کے سینئر قائد اور سابق فلور لیڈر این نرسمہیا کو میدان میں اُتارا گیا۔

نرسمہیا اس علاقہ میں کافی مقبول ہیں۔ اسی طرح نلگنڈہ ضلع کے حضورآباد اسمبلی حلقہ سے پردیش کانگریس کمیٹی کے معاون صدر اتم کمار ریڈی کے خلاف شنکراماں کو ٹکٹ دیا گیا۔ وہ سریکانت چاری نامی نوجوان کی والدہ ہیں جس نے تلنگانہ کیلئے خود سوزی کرلی تھی۔ میدک کے اندول اسمبلی حلقہ سے سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کے خلاف تلگودیشم کے سابق وزیر اور فلم اسٹار بابو موہن کو ٹکٹ دیا گیا۔ بابو موہن سابق میں اسی حلقہ سے دو مرتبہ دامودر راج نرسمہا کو شکست دے چکے ہیں۔ نظام آباد ( رورل ) اسمبلی حلقہ سے سابق صدر پردیش کانگریس اور تلنگانہ ریاست میں چیف منسٹر کے اہم دعویدار ڈی سرینواس کے خلاف نظام آباد میں عوامی مقبولیت رکھنے والے وائی ایس آر کانگریس کے قائد باجی ریڈی گوردھن کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا جو گذشتہ انتخابات میں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے ان کے خلاف اسمبلی حلقہ جنگاؤں سے یادگیری ریڈی کو ٹکٹ دیا گیا جو پونالہ لکشمیا کے مقابلہ میں کمزور مانے جاتے ہیں۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی منتھنی سے ڈی سریدھر بابو کے خلاف امریندر ریڈی اور حلقہ اسمبلی ظہیرآباد سے سابق وزیر جے گیتا ریڈی کے خلاف کے مانک راؤ کو امیدوار بنایا گیا جو ان دونوں سابق وزراء کے مقابلہ میں کمزور موقف کے حامل ہیں۔ پارٹی نے نظام آباد لوک سبھا حلقہ سے دو مرتبہ منتخب ہونے والے مدھو یاشکی گوڑ کے خلاف کے سی آر کی دختر کے کویتا کو میدان میں اُتارا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران مدھو یاشکی گوڑ کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے امکانات ظاہر کئے گئے تھے تاہم لمحہ آخر میں مدھو یاشکی نے فیصلہ تبدیل کرلیا اور ٹی آر ایس کی مخالفت میں شدت پیدا کردی۔ مدھو یاشکی کی مخالفت کا بدلہ لینے کیلئے کے سی آر نے اپنی دختر کو میدان میں اُتارا ہے۔ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے جی ویویک جو دوبارہ کانگریس میں واپس ہوگئے ۔