نئی دہلی۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) قائد اپوزیشن برائے لوک سبھا کا مسئلہ اسپیکر کے ’’خصوصی دائرۂ کار‘‘ میں شامل ہے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت کو خوشی ہوگی، اگر راجیہ سبھا کی طرح لوک سبھا میں بھی ایک مسلمہ قائد اپوزیشن ہو۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ پارٹی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ایک مہم چلا رہی ہے جس کی وجہ سے اسپیکر کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ کانگریس دعویٰ کررہی ہے کہ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن حکومت کی خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس قائد کمل ناتھ کے تبصرے پر تنقید کی کہ اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ بی جے پی حکومت کے نقطۂ نظر کا ’’عکاس‘‘ ہوگا۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ رسمی طور پر قائد اپوزیشن کے عہدہ پر دعویٰ پیش کرنے کے بجائے بعض کانگریسی قائدین اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہونے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو خبردار کیا کہ وہ دستوری اداروں کی اہمیت میں کمی کرنے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو ان کی دانشمندی پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریسائیڈنگ آفیسرس ایسے معاملات میں انتظامیہ کی سابقہ مثالوں کی بنیاد پر مناسب نقطہ نظر اختیار کرتے ہیں
اور کسی کو بھی پریسائیڈنگ آفیسرس پر شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اپوزیشن کا معاملہ اسپیکر کے خصوصی دائرہ کار میں شامل ہے اور بی جے پی یا این ڈی اے حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ لوک سبھا میں قیمتوں میں اضافہ پر مباحث کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر حکومت جو صرف 6 ہفتہ کی ہے، مستقل افراطِ زر کی ذمہ داری کیسے قبول کرسکتی ہے جبکہ گزشتہ دس سال سے برسراقتدار رہنے والی حکومت اس کی ذمہ داری قبول نہ کرے۔ دریں اثناء قائد اپوزیشن کا عہدہ ان کی پارٹی کو دینا کا پُرزور مطالبہ کرنے کے ایک دن بعد صدر کانگریس سونیا گاندھی نے لوک سبھا میں پارٹی ارکان پارلیمان کا ایک اجلاس طلب کیا۔ یہ اجلاس یو پی اے ارکان پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے بعد منعقد کیا گیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر فوری فیصلہ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن کو مکتوب روانہ کریں گے۔ پارٹی قائدین نے کہا کہ سونیا گاندھی کا ارکان پارلیمان کے ساتھ اجلاس نوعیت کے اعتبار سے رسمی ہے۔ کانگریس کل کہہ چکی ہے کہ مکتوب تیار ہے اور اسپیکر کو تمام یو پی اے ارکان پارلیمان کی دستخطیں لینے کے بعد روانہ کردیا جائے گا۔ سونیا گاندھی نے کل کہا تھا کہ ان کی پارٹی واحد سب سے بڑی جماعت ہے اور ماقبل انتخابات اتحاد بھی کرچکی ہے۔