لوک سبھا میںمودی حکومت کی تائید کا الزام مسترد: ونود کمار

تلنگانہ کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رہے گی، ریاست کی تقسیم میں ناانصافیوں کیلئے کانگریس ذمہ دار

حیدرآباد۔/22جولائی، (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے واضح کیا کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے دوران انہوں نے مرکزی حکومت پر عوام کی توقعات کے برخلاف کام کرنے کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے کانگریس قائدین کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ تحریک عدم اعتماد کے دوران ٹی آر ایس نے حکومت کی تائید کی۔ ونود کمار نے آج ارکان مقننہ جیون ریڈی اور ونئے بھاسکر کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اتم کمار ریڈی نیشنل ڈیفنس اکیڈیمی کے طالب علم رہ چکے ہیں اور وہ انگریزی کے ساتھ ہندی سے واقف ہوں گے لہذا مباحث کے وقت ٹی آر ایس کا جو موقف رہا وہ سمجھنے کے باوجود حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مباحث کے لئے ٹی آر ایس کو 9 منٹ کا وقت مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے 23 منٹ تک بات کی۔ ونود کمار نے کہا کہ تقریر کے آغاز پر ہی انہوں نے حکومت پر عوام کی توقعات کے برخلاف کام کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہاکہ کھمم کے 7 منڈلوں کو تلنگانہ کے تحت کرنے کیلئے مودی حکومت نے پہلے کابینی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 500میگا واٹ سیلورو برقی جنریشن سنٹر کیلئے مرکز نے الاٹ کئے جو تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم سے متعلق قانون میں تلنگانہ کو ایک بھی قومی پراجکٹ کا تیقن نہیں دیا گیا جبکہ آندھرا پردیش کو پولاورم کے نام سے قومی پراجکٹ منظور کیا گیا ہے۔اس ناانصافی کیلئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے کیونکہ مرکز میں یو پی اے برسراقتدار تھی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کے ساتھ جو بھی ناانصافیاں ہوئی ہیں اس کیلئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے اتم کمار ریڈی سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے پارلیمنٹ کے مباحث کا مشاہدہ کیا ہے، کیا اسوقت وہ تلنگانہ میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر رہتے ہوئے پارلیمنٹ کے مباحث پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ پارلیمنٹ میں راہول گاندھی اور ملیکارجن کھرگے نے آندھرا پردیش کے حق میں رائے کا اظہارکیا اور تلنگانہ سے کوئی ہمدردی نہیں کی۔ ونود کمار نے کہا کہ کانگریس قائدین کو یقین ہوچکا ہے کہ اب انہیں تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار حاصل نہیں ہوگا اسی لئے قومی قائدین آندھرا پردیش سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کے کانگریس قائدین خود ریاست سے ناانصافی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس تلنگانہ اور اس کے عوام کیلئے قائم کی گئی ہے اور وہ عوام سے کئے گئے وعدوں اور ان کے جائز حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ کسی بھی ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ تلگودیشم پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کی تائید ٹی آر ایس کس طرح کرسکتی تھی۔ہم کسی پارٹی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور ہمارے معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست کی ترقی کیلئے 24 گھنٹے کام کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے مفادات کی تکمیل کیلئے ٹی آر ایس کو کیا کرنا ہے وہ کانگریس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی جب تک زندہ رہے سوائے ایک دو قائدین کے کسی نے تلنگانہ کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی وزیر کی حیثیت سے کے سی آر نے کریم نگر میں پینے کی پانی کی سربراہی اسکیم کا آغاز کرنا چاہا تو کانگریس نے رکاوٹ پیدا کی۔ اسی جذبہ نے کے سی آر کو مشن بھگیرتا اسکیم کے آغاز پر مائل کیا۔ اس اسکیم کے تحت ریاست کے ہر گھر کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی کا منصوبہ ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ مخالفین تلنگانہ آج تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو انتباہ دیا کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھیں ورنہ ٹی آر ایس اسی لہجہ میں جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ تلنگانہ سے ناانصافیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ گزشتہ سیشن میں بھی ٹی آر ایس نے عوامی مسائل پر جدوجہد کی تھی۔