تقریباً 814 ملین ووٹروں کے زائد از 66 فیصد کی ریکارڈ پولنگ ۔ الیکشن کمیشن کا بیان
نئی دہلی ، 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات 2014ء میں اب تک کی اعظم ترین شرکت دیکھنے میں آئی ہے جبکہ تخمیناً 814 ملین ووٹروں کے زائد از 66 فیصد نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ رائے دہی کے تمام نو مراحل میں ووٹنگ کا مجموعی تناسب 66.38 فیصد درج ہوا، جو لوک سبھا انتخابات کی تاریخ میں اعظم ترین تناسب ہے اور یہ اعداد و شمار میں ری پولنگ اور پوسٹل بیالٹ کا حساب جوڑنے کے بعد مزید اضافے کا امکان ہے، الیکشن کمیشن ڈائریکٹر جنرل اکشے راوت نے آج یہاں یہ بات کہی۔ 64.01 فیصد کی سابقہ بہترین پولنگ 1984ء میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد منعقدہ الیکشن میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ جہاں 2009ء میں 58.19 فیصد پولنگ درج کی گئی تھی، وہیں 2004ء کے لوک سبھا انتخابات میں 56.98 فیصد ووٹنگ دیکھنے میں آئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے مواد کے مطابق اس مرتبہ 55.13 کروڑ ووٹروں نے اپنے حقوق رائے دہی کا استعمال کیا جبکہ گزشتہ مرتبہ یعنی 2009ء میں 41.73 کروڑ رائے دہندوں نے ووٹ ڈالے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل راوت نے کہا کہ اکثر شہری مراکز جیسے دہلی، ممبئی، بنگلور، بھوپال، پونے، سورت، لکھنو، احمدآباد، شملہ، گرگاؤں اور چنڈی گڑھ نے گزشتہ مرتبہ کے مقابل اس بار ووٹنگ میں اضافہ درج کرایا ہے۔ خاتون رائے دہندے بھی اس مرتبہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں اور درحقیقت 18 ریاستوں بشمول اروناچل، چنڈی گڑھ، اڈیشہ، پنجاب، بہار اور اترکھنڈ کی پولنگ میں شرکت کے اعتبار سے مرد ووٹروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ووٹروں کی اضافی شرکت کے علاوہ چناؤ کے انعقاد کی لاگت میں بھی قابل لحاظ اچھال دیکھنے میں آیا جیسا کہ جملہ مصارف بڑھ کر 3426 کروڑ روپئے تک پہنچ گئے، جو 2009ء میں 1483 کروڑ روپئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی مصارف میں قابل لحاظ اضافے کو افراط زر اور ووٹنگ بڑھانے کیلئے کئے گئے سلسلہ وار اقدامات سے منسوب کیا ہے۔