نئی دہلی۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی کو بی جے پی کی دو اہم شخصیتوں سشماسوراج اور وسندھرا راجے کی جانب سے مدد پر جاری تنازعہ نے آج مزید شدت اختیار کرلی۔ للت مودی نے ان دونوں کے ساتھ قریبی روابط کا دعویٰ کیا جس پر کانگریس نے دونوں قائدین کو موجودہ عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت اب تک وزیرامور خارجہ سشماسوراج کی خاموشی کے ساتھ مدافعت کررہی تھی لیکن چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے کا نام بھی منظرعام پر آنے کے بعد یہ تنازعہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ وزیر ٹیلیکام روی شنکر پرساد نے کہا کہ ایمگریشن درخواست پر للت مودی کو ان دونوں کی مدد کے بارے میں تفصیلات کا انتظار کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی حکومت کیلئے مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب للت مودی نے کل رات ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ میں ان کی ایمگریشن درخواست کی وسندھرا راجے نے تحریری طور پر تائید کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر امورخارجہ سشماسوراج کے ساتھ ان کے خاندانی روابط ہیں۔ سشماسوراج کے شوہر اور دختر نے انہیں مفت قانونی مدد فراہم کی ہے۔ للت مودی نے یہ بھی کہا کہ راجے دو سال قبل ان کی اہلیہ کو کینسر کے علاج کیلئے پرتگال لے گئیں۔ وسندھرا راجے نے ڈسمبر 2013ء میں دوسری مرتبہ راجستھان کی چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا ہے۔ ان کی مشکلات میں میڈیا رپورٹس کے بعد مزید اضافہ ہوگیا کہ للت مودی نے وسندھرا راجے کے لڑکے دیشنت سنگھ کی فرم میں 2008 میں 11.63 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی۔
چیف منسٹر نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن سشماسوراج نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’میری بیٹی ایک بیرسٹر اور آکسفورڈ گریجویٹ ہے، آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکلیہ غلط ہے‘‘۔ وزیر ٹیلیکام روی شنکر پرساد نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سشماسوراج کا دفاع کیا اور کہا کہ جہاں تک غیر دیانتداری کا الزام ہے وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ انسانی بنیادوں پر ایسا کیا گیا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ایک دستاویز کے منظرعام پر آنے کے بارے میں جس میں راجے نے مبینہ طور پر للت مودی کی ایمگریشن درخواست کی تائید کی۔ پرساد نے محتاط موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تفصیلات معلوم کررہے ہیں۔ اس دوران بی جے پی رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد اپنے موقف پر قائم رہے۔ انہوں نے اس سے پہلے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’’گھاس میں سانپ موجود ہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سارے تنازعہ میں داخلی عوامل کار فرما رہے ہیں۔ کانگریس نے ’’للت گیٹ‘‘ پر حکومت کو لتھاڑتے ہوئے سشماسوراج اور وسندھرا راجے کی فی الفور برطرفی کا مطالبہ کیا۔
اس سارے معاملہ میں وزیراعظم نریندر مودی کی ’’سازشی خاموشی‘‘ پر بھی سوال اٹھایا گیا۔ پارٹی ترجمان رندیپ سرجے والا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ناقابل دفاع موقف کا دفاع کرنے کے بجائے حکومت کو سب سے پہلے دونوں کو برطرف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلہ پر تمام راہیں اختیار کرے گی۔ انہوں نے قانونی لڑائی کا واضح طور پر اشارہ دیا اور کل سے راجستھان میں احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا۔ چنائی میں سابق وزیرفینانس پی چدمبرم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ للت مودی کی ہندوستان واپسی کو یقینی بنائے تاکہ وہ مختلف مقدمات کا سامنا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ سشماسوراج کی مدد قواعد کی خلاف ورزی اور اقربا پروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ گذشتہ سال مودی کا پاسپورٹ بحال کرنے دہلی ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کس نے کیا۔
وسندھرا راجے کی
امیت شاہ کو وضاحت
نئی دہلی ۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) ’’للت مودی گیٹ‘‘ تنازعہ میں نام آنے کے بعد چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے نے آج صدر بی جے پی امیت شاہ سے فون پر رابطہ قائم کیا اور اپنا موقف واضح کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ للت مودی کے دعویٰ کے پس منظر میں وسندھرا راجے نے امیت شاہ کو تمام تفصیلات سے واقف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی کے ساتھ ان کے خاندانی روابط ہیں لیکن انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ راجے کی للت مودی کی تائید میں تحریری مکتوب منظرعام پر آنے کے بعد سے وہ مسلسل پارٹی قیادت سے ربط قائم رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے میڈیا میں دکھائے جارہے مکتوب کے تعلق سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سارے خاندان سے واقف ہوں لیکن جن دستاویزات کی بات کی جارہی ہے اس کا مجھے کوئی پتہ نہیں۔