کراچی ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں ممنوعہ تنظیم لشکر جھنگوی کا ایک سینئر کمانڈر اور ایک مسجد پر خودکش بم حملے میں 60 مصلیوں کی ہلاکتوں کا اصل سازشی سرغنہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں سیکوریٹی فورسیس کے ساتھ انکاونٹر میں ہلاک ہوگیا۔ اس کارروائی میں اس کے ساتھی دیگر دو عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے کہاکہ لشکرجھنگوی بلوچستان کا سرغنہ عثمان سیف اللہ جو صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور کی ایک پرہجوم مسجد میں 30 جنوری کو ہوئے ہلاکت خیز خودکش دھماکے کے پس پردہ کارفرما اصل سازشی ذہن بھی تھا۔ سیکوریٹی فورسیس کے دھاوے کے وقت گاہی خاں چوک کوئیٹہ کی ایک ہوٹل میں روپوش تھا اور انکاونٹر کے دوران سیکوریٹی فورسیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے دیگر دو ساتھی عسکریت پسند بھی اس کارروائی میں مارے گئے۔ دیگر سیکوریٹی عہدیداروں نے کہا کہ فرنٹیئر کور نے چند انٹلیجنس عہدیداروں کے ساتھ گاہی خان چوک، سریاب روڈ پر واقع ایک ہوٹل پر دھاوا کیا جس میں دو عسکریت پسند مارے گئے اور ایک گرفتار کرلیا گیا۔ سیف اللہ عثمانی کے سر پر 25 لاکھ پاکستانی روپئے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ وہ ماضی میں ہزارہا اقلیتی طبقہ کے افراد کے قتل عام اور دیگر کئی دہشت گرد حملوں میں بھی ملوث تھا۔ 2008ء کے دوران وہ کوئیٹہ کنٹونمنٹ میں واقع انسداد دہشت گردی فورسیس کی جیل سے فرار ہوگیا تھا اور بلوچستان میں منظم انداز میں دہشت گرد حملے کررہا تھا۔ انٹلیجنس ذرائع نے کہا کہ مہلوک کمانڈر کے القاعدہ اور افغان طالبان سے قریبی روابط تھے۔