لداخ کونسل کی مختلف ترقیاتی ضرورتوں کیلئے وزیراعظم سے نمائندگی

لیہہ۔ 12 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )لداخ سے کیلاش مانسرور یاترا کی رہگذر کھولنا ، ہائیڈرو پاور پراجکٹس میں رائیلٹی اور کھردونگلا کے ذریعہ ہمہ مقصدی گذرگاہ بنانا ایسے چند مطالبات ہیں جو لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو آج یہاں پیش کئے گئے ۔ کونسل کے چیرمین ریکزین اسپلبار نے یہاں مودی سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں لداخ خطہ کے مطالبات کی صراحت کی گئی ، اس کے علاوہ کونسل کی جانب سے اس خطہ میں ترقیاتی کاموں کے لئے دوسو کروڑ روپئے کی ایک وقتی گرانٹ بھی طلب کی گئی ۔ وزیراعظم نے جو یہاں 45 میگاواٹ کے نیموبازگو ہائیڈرو الیکٹرک پراجکٹ اور کارگل میں 45 میگاواٹ کے چوٹک پاور اسٹیشن کا افتتاح کرنے آئیں ہیں ، اسپلبار کو یقین دلایا کہ وہ کونسل کے پیش کردہ تمام مطالبات پر غور کریں گے ۔ اس خطہ میں 5000 میگاواٹ اور 2500 میگاواٹ کے بڑے سولار پراجکٹوں کا بھی تقاضہ کرتے ہوئے کونسل نے ان ہائیڈرو پراجکٹوں کے معاملے میں کونسل کے حق میں 12.5 فیصد رائیلٹی بھی چاہی ۔ کونسل نے کہا کہ ان پراجکٹوں کے لئے مشرقی لداخ خطہ سے کافی اراضی حاصل کرنی ہوگی جہاں کی آبادی افزائش مویشیان پر گذر بسر کرتی ہے ، اس طرح اُن کی گذربسر پر منفی اثر پڑے گا ۔ میمورنڈم میں کہا گیا کہ اس پراجکٹ سے وہاں کا پہلے سے شکستہ ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اس پس منظر میں کونسل 12.5 فیصد رائیلٹی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ انھیں ہونے والے ممکنہ نقصانات کی پابجائی کی جاسکے ۔ یہاں سے مانسرور کے لئے یاترا کا نیا راستہ کھولنے کے بارے میں کونسل نے کہاکہ لداخ میں دمچوک سب سے آسان اور محفوظ راستہ کیلاش مانسرور تک فراہم کرتا ہے ۔

یہاں سے یاتری مقدس پہاڑی تک جاسکتے ہیں اور دو روز میں مقدس جھیل تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے مقامی معیشت کو بھی جہت حاصل ہوگی جس کی اشد ضرورت ہے ۔ چین کے ساتھ سرحد پار تجارتی روابط بھی شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کونسل نے کہاکہ سرحد پار تجارت کے لئے دمچوک کی کشادگی نہ صرف علاقائی معیشت کو تقویت پہنچائے گی بلکہ ہند۔ چین تعلقات کو فروغ دینے میں بھی کافی مدد ملے گی ۔ اس خطہ میں تعلیم یافتہ خواتین میں بیروزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کونسل نے تجویز پیش کی کہ لداخی خواتین کی بٹالین تشکیل دی جائے جنھیں آرمی اور نیم فوجی دستوں میں بھرتی کیا جاسکتا ہے ۔ کونسل نے کہا کہ جموں اور سرینگر میں موجود یونیورسٹیوں کے خطوط پر ایک سنٹرل یونیورسٹی بھی یہاں قائم کی جاسکتی ہے جو مقامی لوگوں کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کریگی ۔