لبیک کی صداؤںمیںتلنگانہ کے حجاج کرام کی منیٰ آمد

آج وقوف عرفات کے ساتھ ہی حج کی تکمیل ۔ حجاج کرام بخیر۔ پروفیسر ایس اے شکور کا بیان
حیدرآباد30 اگست ( پریس نوٹ ) حیدرآباد امبارکیشن پوائینٹ سے تعلق رکھنے والے تمام 6344 حاجی صاحبان‘ جن میں ریاست تلنگانہ کے 3444 حجاج کرام بھی شامل ہیں‘ کل شب ہی بسوں کے ذریعہ خیموں کے شہر منیٰ میں پہنچ چکے ہیں اور وہاں عبادات‘ دعاؤں اور اذکار میں مصروف ہیں۔ پروفیسر ایس ا ے شکور اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی نے بتایا کہ ان کو موصولہ اطلاعات کے مطابق میدان منیٰ میں ہر طرف تلبیہ کی گونج سنائی دے رہی ہے اور ہر سمت ایک عجیب والہانہ اور روح پرور منظر دکھائی دے رہا ہے۔ اقطاع عالم سے آئے ہوئے حجاج کرام سفید احرام میں ملبوس ہیں اور ان کے لبوں پر تلبیہ کے علاوہ دعاؤں اور اذکار کا ورد جاری ہے۔ منیٰ ان مقامات میں سے ہے جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں‘ اسی لئے حجاج کرام ذکر‘ استغفار ‘ تلاوت قرآن مجید اور دعاؤں میں مصروف ہیں۔ منیٰ میںآٹھویں تاریخ کی ظہر سے 9 ذی الحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں ادا کرنا اور12ذی الحجہ تک کی درمیانی راتوں میں قیام کرنا سنت ہے۔ منیٰ میں درجہ حرارت 42ڈگری اور رات کا درجہ حرارت 29ڈگری ہے- انہو ںنے بتایا کہ اگرچہ منیٰ سے نماز فجر کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہونا مسنون ہے لیکن حجاج کرام کے ہجوم کی وجہ سے معلم حجاج کرام کو رات ہی سے میدان عرفات لے جانے والے ہیں کچھ حجاج کرام بسوں کے ذریعہ عرفات جائیں گے اور کچھ حجاج کرام کو ٹرین سے سفر کی سہولت ملی ہے‘ جن کو ٹرین میں سفر کے لئے خصوصی کڑے دئے جارہے ہیں۔ ا س طرح تمام حجاج کرام اب منیٰ سے عرفات منتقل ہوجائیں گے اور کل وقوف عرفات کے ساتھ ہی حج ادا ہو جائے گا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ حیدرآباد امبارکیشن پوائینٹ سے جملہ 6347 حجاج کرام کی روانگی عمل میں آئی تھی‘ جن میں تلنگانہ کے 3445 ‘ آندھرا پردیش کے 2096 اور کرناٹک کے 806 عازمین شامل ہیں‘ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد ان تین علاقوں کے ایک ایک حاجی کی موت واقع ہوئی‘ اس طرح اب منیٰ میں 6344 عازمین مقیم ہیں۔ تمام حاجی صاحبان خیریت سے ہیں‘ حج مشن کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کے لئے مناسب انتظامات کئے گئے ہیں اور خادم الحجاج بھی ان کی مدد و رہبری کے لئے مستعد ہیں۔ منیٰ میں حجاج کرام کو طعام سربراہ کیا جارہا ہے اور حکومت سعودی عرب کی جانب سے سخت سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔