لبنان : طاقتور بم دھماکہ میں سابق وزیر سمیت 5 ہلاک

بیروت ، 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لبنان کے دارالحکومت کے مرکز میں آج ایک طاقتور بم دھماکے میں سابق مشیر مالیات محمد شطہ جن کا عہدہ وزیر کے برابر رہا ہے، ان کے سمیت کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ محمد شطہ ایک اجلاس میں شرکت کیلئے جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ ہلاکتیں بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ محمد شطہ سابق وزیر اعظم سعد الحریری کے اتحادی رہ چکے ہیں۔ ان کا سنی مسلک سے تعلق تھا اور وہ متحرک رہنما تھے۔ فوری طور پر اس دھماکے کی کسی نے ذمہ داری قبول کی اور نہ حکومت کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ دھماکہ بیروت کے انتہائی سکیورٹی زون میں پارلیمنٹ کی عمارت اور حکومتی دفاتر کے قریب ہوا اور اطلاعات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس بھی قریب ہی واقع ہے۔ اس دھماکے سے کئی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے فوراً بعد ٹیلی ویژن چینلز پر دکھائے گئے مناظر میں بم دھماکے کے مقام سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا اور خوف و ہراس کے باعث لوگ ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کی طرف رخ کیا، جبکہ ایمبولینس گاڑیوں کے ہوٹر بھی بجنے لگے اور ایمبولنس گاڑیاں جائے دھماکہ کی جانب دوڑنے لگیں۔ مقامی اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی اور زخمیوں کو اسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ پڑوسی ملک شام میں لڑائی کے بعد سے لبنان میں گزشتہ مہینوں میں کئی بم دھماکے ہوئے۔ شطہ کا شمار شامی صدر بشارالاسد کے ناقدین اور مخالفین میں ہوتا تھا۔