lمودی کے قریبی گوتم ادانی کو ایک ارب ڈالر قرض دینے سے انکار
lرویا ایسار گروپ پر بھی ایک لاکھ کروڑ قرض کا بوجھ
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ہندوستانی معیشت میں اگر خراب قرض Bad Loans وصول کرلیے جائیں تو ایک غیر معمولی معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے ۔ حال ہی میں ہندوستان میں کام کررہی کم از کم 73 بینکوں نے جن میں عوامی شعبہ کی 22 ، خانگی شعبہ کی 14 اور 32 بیرونی بینکس شامل ہیں ۔ مقروض صنعتی گھرانوں اور دولت مندوں سے وصول طلب قرض کی وصولی کے لیے ان بینکوں نے ایک خصوصی منصوبہ کو بھی قطعیت دی ہے ۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ ہندوستانی بنکوں کو صرف چند صنعت کاروں سے 10 تا 12 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض وصول طلب ہے ۔ ان میں سے کچھ ملک سے فرار ہوگئے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کا انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کرنے والے نریندر مودی جی سے بعض صنعت کاروں کے قریبی تعلقات ہیں جس کا وہ انکار نہیں کرسکتے ۔ اب چونکہ بینکوں سے قرض حاصل کر کے اس قرض کو نقصانات کے بہانے ادا نہ کرنے والے صنعتی گھرانوں کے خلاف کارروائی کا اپوزیشن اور عوام مطالبہ کررہے ہیں ۔ ایسے میں مودی جی کی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے یہی غنیمت جانا کہ Bad Loans وصول کرنے کے عمل میں شدت پیدا کی جائے ۔ ویسے بھی مودی نے اپنے قریبی صنعت کاروں کے 2.5 لاکھ روپئے کے قرض معاف کردئیے ہیں ۔ خود کو پریشان حال ظاہر کرنے کے لیے یہ صنعت کار اپنے گروپس کی کمپنیاں اور مختلف ذیلی ادارے و پراجکٹس فروخت کرنے لگے ہیں ۔ آج ہم آپ کو رویا کے ایسار گروپ ( ششی اور روی رویا ، ان کی کمپنیوں اور گروپس کے ساتھ ساتھ ان پر واجب الادا قرض کے بارے میں بتائیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ششی اور روی رویا کا ایسار گروپ 1,01,461 کروڑ روپئے کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے ۔ اس قرض کی بینکوں کو واپسی یا ادائیگی کے لیے ایسار گروپ نے ایسار آئیل کی ودنیا ریفائنری کو 25 ہزار کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس ریفائنری میں سالانہ 20 ملین ٹن تیل ریفائن کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ گروپ فولاد کے کاروبار سے بھی وابستہ ہے اور اس یونٹ پر 40 ہزار کروڑ کا قرض ہے ۔ جن کی ادائیگی کے لیے وہ فولاد کے اپنے کاروبار میں ایک شراکت دار کو شامل کر کے اسے 49 فیصد حصہ کا حقدار بنانے کوشاں ہیں ۔ اس 49 فیصد حصہ کی قدر 25000 کروڑ بتائی جاتی ہے ۔ یہ گروپ بندرگاہوں کے کاروبار سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ چنانچہ یہ گروپ ایسار اسٹیل ، ایسار آئیل اور ایسار بندرگاہ بزنس کے بڑے حصہ فروخت کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ ایسار گروپ 5000 کروڑ روپئے مالیتی اثاثہ جات فروخت کررہا ہے ۔ اب چلتے ہیں ادانی گروپ کی طرف ، گوتم ادانی کو وزیراعظم نریندر مودی کا قریبی آدمی تصور کیا جاتا ہے ۔ اس پر 96,031 کروڑ روپئے کا قرض ہے جس کی ادائیگی کے لیے وہ اہاٹ پوائنٹ کول مائنس ( کوئلہ کی کانوں ) بندرگاہ اور ریل پراجکٹ میں موجود اپنے حصے فروخت کرنے کے لیے دباؤ میں ہے ۔ وہ اسٹانڈرڈ چارٹرڈ بینک کو بھی قرض باقی ہے اسے اس وقت دھکہ پہنچا جب عالمی اداروں نے اس کے 10 ارب ڈالرس مالیتی کول مائن ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے لیے مالیہ فراہم کرنے کا ارادہ ترک کردیا ۔ حد تو یہ ہے کہ یادداشت مفاہمت پر دستخط کے باوجود ایس بی آئی نے قرض کی فراہمی سے انکار کردیا ۔۔