کوالالمپور ؍ پرتھ 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا نے آج کہاکہ لاپتہ ملائیشیائی جیٹ طیارہ کا پتہ چلانے کی کوششوں میں کامیابی کی توقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ طیارہ میں لدے ہوئے مال کا ایک لکڑی کا صندوق جنوبی بحر ہند کے دور افتادہ علاقہ میں دیکھا گیا ہے۔ ایک دن قبل چینی مصنوعی سیاروں نے کثیر تعداد میں اِس علاقہ میں بڑی بڑی اشیاء تیرتے رہنے کا پتہ چلایا تھا۔ یہ صندوق جو رسیوں سے بندھا ہوا ہے، آسٹریلیا کے ایک طیارہ کو جو ملائیشیا کے لاپتہ طیارہ کی تلاش میں شامل تھا، نظر آیا۔ یہ طیارہ 8 مارچ کو ملائیشیا کے ساحل کے قریب لاپتہ ہوگیا تھا۔ اِس میں 239 افراد بشمول 5 ہندوستانی اور ایک ہندوستانی نژاد کینیڈا کا شہری شامل تھے۔ کل ایک طیارہ کو جو لاپتہ طیارہ کی تلاش میں شامل ہے،
اُن اشیاء کی تصویریں حاصل ہوئیں جو آسٹریلیا کے تلاش کے علاقہ میں تیرتی ہوئی پائی گئی تھیں۔ کئی چھوٹی چھوٹی اشیاء جو ایک دوسرے کے قریب تھیں، اِس علاقہ میں نظر آئی تھیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اِن میں یہ لکڑی کا صندوق بھی شامل تھا۔ اِس سے پہلے کہ اِن اشیاء کے بارے میں کوئی قطعی نتیجہ اخذ کیا جائے اُنھیں حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ ابھی قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ تلاش کی کارروائیوں میں مزید طیارے آج شامل ہوگئے جبکہ بحر ہند کے اِس دور افتادہ علاقہ میں تقریباً ڈھائی ہزار کیلو میٹر کے فاصلہ پر پرتھ کے جنوب مغرب میں یہ اشیاء نظر آئیں۔ دو چینی طیارے اور دو جاپانی طیارے بھی تلاش مہم میں شامل کرلئے گئے ہیں۔ اِن طیاروں نے کل اپنی تلاش کارروائی کے علاقہ میں توسیع کرتے ہوئے 36 ہزار مربع کیلو میٹر کے علاقہ کا جائزہ لیا۔
آسٹریلیا کے بحری حفاظتی اتھاریٹی کے بموجب 8 طیاروں نے جملہ 59 ہزار مربع کیلو میٹر کے علاقہ کا آج جائزہ لیا ہے۔ آسٹریلیا کے ایک بحری جہاز نے جو اِس علاقہ میں پہونچ گیا ہے، چینی بحری جہازوں کو تلاش کے علاقہ کی سمت پیشرفت کرتے دیکھا ہے۔ یہ تجارتی بحری جہاز جو تلاش کی مہم میں شامل تھے، اب خدمات سے سبکدوش کردیئے گئے ہیں۔ دریں اثناء ہندوستان نے دو طویل مسافتی بحریہ کے طیارے بحر ہند روانہ کردیئے ہیں تاکہ پُراسرار حالات میں دو ہفتہ قبل 239 افراد کے ساتھ لاپتہ ہوجانے والے ملائیشیائی طیارہ کو تلاش کیا جاسکے۔ دونوں جاسوس طیارے P8-I کوسیڈن جو ہندوستانی بحریہ کا ہے اور C-130J سوپر ہرکلس جو ہندوستانی فضائیہ کا ہے، آج سبانگ ایرپورٹ ملائیشیا سے تلاش اور بچاؤ کارروائی میں شامل ہونے کے لئے روانہ ہوگئے۔
یہ تلاش بحر ہند میں جنوبی راہداری کے قریب جاری ہے۔ دونوں طیارے طویل مدتی قوت برداشت رکھتے ہیں اور برقی، بصری آلات اور بالائے بنفشی سرخ شعاعوں کے آلات سے آراستہ ہیں۔ دونوں ہندوستانی طیارے امکان ہے کہ راستہ میں سمندری طوفان کے حالات کا سامنا کریں گے۔ ناخوشگوار موسم کی وجہ سے طیاروں کے کیپٹنس نے فیصلہ کیا ہے کہ تلاشی کے علاقے میں دونوں طیارے تقریباً 10 گھنٹے تاخیر سے پہونچیں گے۔ ہندوستان 11 مارچ سے ہی بحر انڈومان اور خلیج بنگال میں تلاش اور بچاؤ کارروائی میں شریک ہے۔ ہندوستانی بحریہ اور ہندوستانی ساحلی محافظین کے 5 بحری جہاز اور 6 طیارے انڈومان اور نکوبار کمان سے تعلق رکھتے ہیں اور بحر ہند میں تلاش اور بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں۔