لاپتہ ایم ایچ 370 کیلئے زیر آب تلاش کا عمل شروع

پرتھ ، 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملائیشیا کے لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش کیلئے پہلی مرتبہ زیر آب چلنے والی کشتیوں اور ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔ تلاش کی مہم کے سربراہ اینگس ہوسٹن کا کہنا ہے کہ زیر آب چلنے والے بلیو فِن 21 ڈرون کو سمندر کی تہہ میں طیارہ کے ملبے کی تلاش کیلئے جلد از جلد روانہ کیا جائے گا۔ تلاش میں مصروف ٹیمیں طیارہ کے فلائٹ ریکارڈر ’بلیک باکس‘ کے سگنلز سننے کیلئے مخصوص آلات کا استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم 8 اپریل کے بعد سے کوئی سگنل سنائی نہیں دیا اور خدشہ ہے کہ فلائٹ ریکارڈر کی بیٹریاں ختم ہو گئی ہیں۔ ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 370 8 مارچ کو لاپتہ ہوگئی تھی، اس میں 239 افراد سوار تھے۔ یہ طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جا رہا تھا۔ جنوبی چین کے سمندر پر پرواز کرتے ہوئے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا تھا۔ ملائیشیا کے حکام کا خیال ہے کہ سٹیلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ طیارہ اپنے مقررہ راستے سے ہزاروں کلومیٹر دور جنوبی بحر ہند میں کہیں گر کر تباہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا کے ساحلی شہر پرتھ کے مغرب میں بحرِ ہند میں لاپتہ طیارہ کی تلاش کیلئے بین الاقوامی مہم جاری ہے۔ ایئر چیف مارشل ہوسٹن تلاش کے مشترکہ آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ دن سے فلائٹ ریکارڈر کے سگنل موصول نہیں ہورہے، اس لئے اب وقت ہے کہ پانی کے اندر جائیں۔ بلیو فن 21 اس مقام پر ملبہ کی تلاش کرے گا جہاں گزشتہ ہفتے چار مرتبہ سگنل سنے گئے تھے۔ ایئر چیف مارشل ہوسٹن کا کہنا ہے کہ ’’ان چاروں سگنلوں کے جائزے کی مدد سے سمندر کی تہہ پر قدرے کم رقبے پر تلاش کی جائے گی جس کا انتظام نسبتاً آسان ہوگا‘‘۔ تاہم انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ زیرِآب چلنے والی ان کشتیوں کی مدد سے کی جانے والی یہ تلاش طویل اور محنت طلب ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لاحاصل ہو۔