نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کے سامنے پھر ایک بار یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے کہ آیا گروپ سسٹم کے ذریعہ ججس کے تقررات کے قانون کو تبدیل کرنے کی دستور افادیت کیا ہے اس معاملے میں بعض فریقین نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ جسٹس جے ایس کھیہر کی زیر قیادت پانچ رکنی ججس کی بنچ ہی سماعت کرے گی کہ اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جاسکتا ہے اور سپریم کورٹ کے کونسے ججس اس معاملہ کی سماعت کرسکتے ہیں ۔ جسٹس کھیہر نے کہا کہ وہ اس معاملہ کی سماعت کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے ۔ وہ اس معاملہ کی سماعت اس لئے کررہے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا نے ان کی قیادت میں دستوری بنچ تشکیل دی ہے ۔ جسٹس اے آر دیو نے از خود اس سے دور رکھا ہے ۔ بنچ کی قیادت کرنے کا فیصلہ کیلئے ان کے نام کی تجویز پیش کی گئی تھی ۔ انہو ںنے چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب لکھا تھا کہ وہ نہ تو قومی جوڈیشیل تقررات کمیشن یا گروپ کا حصہ نہیں ہوں گے اور وہ اپنے فیصلہ پر اس وقت تک قائم رہے گے تاوقت کہ اس معاملہ کی قطعی سماعت ہوجائے اور فیصلہ کردیا جائے ۔ ہم کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس معاملہ کی سماعت کوں کرے گا اس بنچ میں جسٹس جے چلمینور ‘مدن بی لوکر ‘کورین جوزف اور آدرش کمار گوئیل بھی ہیں جبکہ اس معاملہ کی سماعت کل مقرر کی گئی ہے ۔