قومی تعمیر نو میں اُردو صحافت کا نمایاں رول، اُردو صحافیوں کو جان فشانی کیساتھ کام کرنے کا مشورہ

ہفت روزہ آئینہ چشم کی سالگرہ، احمد مکیش صدیقی کی خدمات کو خراج تحسین، جناب زاہدعلی خان و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 24 مئی (دکن نیوز) جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہاکہ قومی تعمیر نو میں اُردو صحافت نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔ خاص طور پر حیدرآباد کے اُردو اخبارات نے برصغیر میں اُردو اخبارات کے معیار اور اعتبار کو بلند کرنے میں رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے۔ جناب زاہد علی خان اُردو ہال حمایت نگر میں اُردو ہفتہ وار ’’آئینہ چشم‘‘ کی 28 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب کو مخاطب تھے۔ اُنھوں نے اس موقع پر اخبار کے خصوصی شمارے کی رسم رونمائی انجام دی۔ جسٹس ای اسماعیل سابق رکن انسانی حقوق کمیشن، پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر ؍ سکریٹری اُردو اکیڈیمی، افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ، عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف، ڈاکٹر شکیل حیدر خان، محمد قمرالدین اور شفیع الدین سوداگر نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جشن آئینہ چشم کا آغاز مزاحیہ شاعر حمایت اللہ کی تحریر کردہ حمد سے ہوا۔ جسے فنکار خان اطہر نے پیش کرتے ہوئے سماں باندھ دیا۔ احمد صدیقی مکیش چیف ایڈیٹر آئینہ چشم کی خدمات کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے جناب زاہد علی خان نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے اخبار کو روزنامہ بنائیں۔ اس سلسلہ میں اُنھوں نے الحاج محمد کاظم علی خان صدر ساؤتھ انڈیا جرنلسٹ اسوسی ایشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے ایک اُردو پریس قائم کیا ہے جہاں اُردو اخبارات کی اشاعت کی تمام سہولتیں وہ فراہم کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ اخبار سیاست کا آغاز انتہائی ناموافق حالات میں ہوا تھا۔ بانی سیاست جناب عابد علی خان نے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اپنی اہلیہ کے سارے زیور فروخت کردیئے بلکہ اُنھیں گھر کو بھی فروخت کرنا پڑا۔ وہ اور جناب محبوب حسین جگر نے آہنی عزم اور مضبوط ارادہ کے ساتھ اخبار شائع کیا۔ سیاست اُردو کا پہلا اخبار ہے جسے دنیا کے 170 ممالک کے 20 لاکھ افراد پڑھا کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد کے اخبارات کا معیار ملک کی دیگر زبانوں کے اخبارات سے کم نہیں ہے۔ اُنھوں نے اُردو صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ نہایت جان فشانی کے ساتھ اخبار چلائیں تاکہ اخبار کے ذریعہ سماج و معاشرہ میں اُن کی پہچان و شناخت قائم ہوسکے۔ ابتداء میں جناب ہادی رحیل سینئر جرنلسٹ نے خیرمقدمی تقریر میں کہاکہ آئینہ چشم کی سالگرہ دراصل ایک تہذیبی جشن ہے۔ اُنھوں نے اخبار سیاست کو اُردو صحافت کی آبرو قرار دیتے ہوئے کہاکہ سیاست نے ہر دور میں چھوٹے اخبارات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ آج کے دور میں اس طرح کا رجحان فال نیک ہے۔ عابد صدیقی نے اس موقع پر احمد صدیقی مکیش کی شخصیت اور اُن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ وہ پیکر محبت اور پُرخلوص و متحرک شخصیت ہے۔ اُنھوں نے آرٹ، صحافت کی برسوں تک خدمت کی اور اب مسلم معاشرہ کی اصلاح کی تحریک میں پورے حوصلے کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ جناب زاہد علی خان کی شخصیت اُن کے لئے سرچشمہ وجدان ہے۔ عبدالجلیل نے تمام مہمانوں کی گلپوشی کی۔ صدر اُردو ماس کمیونکیشن مختار احمد فردین نے احمد مکیش کے اعتراف میں اُنھیں سوسائٹی کی جانب سے ’’اُردو رتن ایوارڈ‘‘ پیش کیا۔ اس موقع پر ایڈیٹر آئینہ چشم کی گلپوشی کی گئی۔ مسرس واصف صدیقی، سید عثمان رشید، خیرات علی، محمد نصر اللہ خان اور محترمہ کاظمہ صدیقی کنوینر نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس تقریب میں جناب محمد عبدالرحیم خان سابق پرنسپل اُردو آرٹس (ایوننگ) کالج، ڈاکٹر سید غوث الدین، فراست علی باقری، محمد اسماعیل، نواب مظہر علی خان، اصغر حسین، صالح بن عبداللہ باحاذق، محترمہ صفیہ غوث، وارث اقبال، محمد سمیع الدین اور کئی معزز شخصیتوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد دلچسپ و رنگا رنگ تہذیبی پروگرام ’’رات پھولوں کی بات پھولوں کی‘‘ پیش کیا گیا جس میں ملک کے نامور فنکاروں نے حصہ لیا۔ سجاد کشور نے کشور کمار کے گیت گائے۔ احسان صدیقی نے طلعت محمود کے مقبول عام گیت پیش کرکے ماضی کی یادوں کو تازہ کردیا۔ مزاحیہ فنکار منور علی مختصر، حامد کمال، شبیر خان اور قادر شریف نے اپنے مزاحیہ خاکوں و لطیفوں کے ذریعہ محفل کو قہقہہ زار بنادیا۔ احمد صدیقی مکیش اپنے مخصوص انداز میں فنکاروں کا تعارف کروایا۔ اُردو ہال احمد مکیش کے مداحوں اور افراد خاندان سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ احمد صدیقی مکیش نے پروگرام کے آخر میں نہایت جذباتی انداز میں فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔