طبقات کی کم نمائندگی پر کمیشن کا سوال، تلنگانہ حکومت کی مسلمانوں سے ہمدردی بے نقاب، تحریری یادداشتوں کی اہمیت نہیں
حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) قومی سطح پر پسماندہ طبقات کی فہرست میں مختلف طبقات کی شمولیت کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس کی حیدرآباد میں تین روزہ عوامی سماعت کا آج اختتام عمل میں آیا۔ مسلمانوں کو مرکز کے بی سی زمرہ میں شامل کرنے کے سلسلہ میں نمائندگیاں غیر اطمینان بخش اور مایوس کن رہیں حتیٰ کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے کسی نے مسلمانوں کو تحفظات کے حق میں نمائندگی سے گریز کیا جبکہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرچکی ہے۔ کمیشن نے گزشتہ دو دنوں میں بی سی زمرہ کے اُن طبقات کے دعوؤں کی سماعت کی جو اے تا ڈی زمرہ کے تحت ریاست میں شامل ہیں اور مرکزی فہرست میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ عوامی سماعت کے آخری دن آج بی سی ای زمرہ کے تحت ان 14 طبقات کی سماعت مقرر کی گئی تھی جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر جن 14 مسلم طبقات کو تحفظات فراہم کئے گئے ان سے نمائندگیاں طلب کی گئی تھیں تاکہ مرکزی بی سی لسٹ میں ان کی شمولیت کا جائزہ لیا جاسکے۔ مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں شامل کرنے سے متعلق سماعت کے دوران مسلم جماعتوں، تنظیموں اور تحفظات کی مہم چلانے والے اداروں کی بے حسی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ کمیشن کے روبرو مسلمانوں کی جانب سے ٹھوس نمائندگی نہیں کی گئی جبکہ بعض تنظیموں نے صرف تحریری یادداشت کی پیشکشی پر اکتفاء کیا۔ نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس کے صدرنشین جسٹس وی ایشوریا اور کمیشن کے ارکان ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری، ایس کے کھارونتھن اور اے کے منگوترا پر مشتمل بنچ نے عوامی سماعت کی۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ممتاز قانون داں ایس این پرساد کے ذریعہ مسلمانوں کے تمام 14طبقات کی مرکزی فہرست میں شمولیت کے حق میں مدلل بحث کی جوکہ عوامی سماعت کا حاصل ثابت ہوئی۔ ان کے علاوہ جمعیتہ العلماء، جمعیتہ القریش، ہیلپ حیدرآباد، تلنگانہ ریزرویشن فرنٹ اور دیگر چھوٹی تنظیموں نے نمائندگی کی۔ کانگریس کے قائد خلیق الرحمن نے بھی تمام 14مسلم طبقات کو مرکزی فہرست میں شامل کرنے کیلئے نمائندگی کی۔ کمیشن کے روبرو مسلمانوں کے حق میں غیر موثر پیروی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کمیشن نے تحریری نمائندگیوں پر کوئی توجہ مبذول نہیں کی۔ اس کا اصرار تھا کہ جن طبقات کو تلنگانہ میں بی سی زمرہ میں شامل کیا گیا ہے ان طبقات کے نمائندوں کو کمیشن کے روبرو حاضر ہونا چاہیئے۔ 14طبقات میں سے صرف 5 طبقات ہی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے جن میں قریش، شیخ، فقیر، لبے شامل ہیں۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے دیگر طبقات کی عدم نمائندگی کا نوٹ لیا اور اس بارے میں وضاحت طلب کی۔ جن تنظیموں نے کمیشن سے نمائندگی کی ان میں وکلاء کے ذریعہ دلائل پیش کرنے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔ کمیشن نے بعض ایسی نمائندگیوں پر اعتراض جتایا جن میں نمائندگی کرنے والے کا تعلق سفارش کئے جارہے طبقات سے نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت کے محکمہ بی سی ویلفیر کی جانب سے کسی بھی عہدیدار کی عدم موجودگی کا شرکاء نے نوٹ لیا جبکہ حکومت مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ تلنگانہ حکومت کمیشن کے روبرو مسلمانوں کے تحفظات کے حق میں دلائل پیش کرتی۔ گزشتہ تین دن سے کمیشن کی سماعت جاری ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے بی سی ویلفیر حتیٰ کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو بھی کمیشن کے روبرو حاضر ہونے کی ہدایت نہیں دی۔ اس طرح نیشنل کمیشن فار بیاک ورڈ کلاسیس کے روبرو مسلمانوں کو بی سی زمرہ میں شامل کرنے کی نمائندگیوں کو مجموعی طور پر غیر اطمینان بخش کہا جائے گا۔ شہر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت جو مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اس کی جانب سے صرف ایک تحریری یادداشت حوالے کردی گئی اور اس کے نمائندے صرف چند لمحوں کیلئے اجلاس میں شریک رہے۔ مسلم تنظیموں اور اداروں کو نامور وکلاء کے ذریعہ اقلیتوں کے حق میں نمائندگی کرنی چاہیئے تھی جبکہ وہاں موجود ایک وکیل نے شدت کے ساتھ مسلم طبقات کی بی سی زمرہ میں شمولیت کی مخالفت کی جس کا موثر انداز میں جواب دینے کیلئے مسلم وکلاء موجود نہیں تھے۔ سماعت کے اختتام کے بعد کمیشن کے ایک ذرائع نے کہا کہ کمیشن کے پاس ان طبقات کو رجوع ہونا چاہیئے تھا جنہیں تلنگانہ حکومت نے بی سی ای زمرہ میں شامل کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیشن کو تحریری طور پر جو یادداشت پیش کی جاتی ہے اس کا بہت کم ہی جائزہ لیا جاتا ہے کیونکہ عوامی سماعت میں دلائل کی پیشکشی اور کمیشن کے شبہات کا جواب دینا اہمیت کا حامل ہے اور یہی کمیشن کی کارکردگی کے ریکارڈ میں شامل ہوتا ہے۔