کئی دہوں کی فریاد 15 اگست کو رنگ لائے گی ، مستقل تقاریب ممکن،برطانوی سامراج سے نسبت والاپریڈ گراونڈ مسترد
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے فیصلہ کا خیر مقدم ، اہم سیاحتی مقام کی حیثیت سے فروغ ، تلنگانہ کی تہذیب و روایات کا احیاء
حیدرآباد۔/7اگسٹ، ( سیاست نیوز) نو قائم شدہ ریاست تلنگانہ کیلئے 15 اگسٹ 2014 کا دن یقینا ایک نئی تاریخ رقم کرے گا جس دن تاریخی قلعہ گولکنڈہ کی عظمت رفتہ کا تسلسل نئی دہلی کے لال قلعہ سے وابستہ ہوجائے گا۔ تاریخی لال قلعہ کی فصیل پر ہر سال یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، اس اعتبار سے لال قلعہ ہندوستان کی عظمت کی ایک علامت بن چکا ہے۔ اسی طرح تلنگانہ ریاست کیلئے پہلا یوم آزادی تاریخی نوعیت کا حامل ہوگا کیونکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے تہذیبی ورثہ اور عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے قلعہ گولکنڈہ پر قومی پرچم لہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ عوام اور سماج کے دانشوروں کی جانب سے چندر شیکھر راؤ کے اس فیصلہ کا زبردست خیرمقدم کیا گیا کیونکہ اس سے نہ صرف قلعہ گولکنڈہ دنیا بھر میں ایک اہم سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف ہوگا بلکہ تلنگانہ کی تہذیب اور روایات کی بحالی میں مدد ملے گی۔ قلعہ گولکنڈہ جس نے کئی سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں آج حکام کی لاپرواہی کی داستان بیان کررہا ہے لیکن چندر شیکھر راؤ نے یوم آزادی تقاریب قلعہ گولکنڈہ میں منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس تاریخی قلعہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ گذشتہ کئی دہوں سے قلعہ گولکنڈہ کی فریاد 15اگسٹ کو رنگ لائے گی۔ کاکتیہ دورِ حکومت کے بعد بہمنی، قطب شاہی، مغلیہ اور آصف جاہی سلطنتوں کی حکمرانی کے گواہ کے طور پر موجود قلعہ گولکنڈہ کو پھر ایک مرتبہ تاریخی اہمیت کے حامل مقام میں تبدیلی کا موقع ملا ہے۔ اگرچہ قلعہ گولکنڈہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں ہے لیکن اس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب تاریخی قلعہ اور اس سے ملحقہ عمارتیں زبان حال سے اپنی پسماندگی اور حکومتوں کی بے اعتنائی کی شکایت کررہی تھیں۔ مناسب دیکھ بھال کی کمی کے علاوہ قلعہ کے اطراف و اکناف کی اراضیات پر ناجائز قبضے اور اطراف کے علاقے کی پسماندگی نے بھی قلعہ گولکنڈہ کی اہمیت کو کم کردیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ حکومت کے پہلے یوم آزادی کو اس تاریخی قلعہ میں منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہوجائے تو پھر یوم جمہوریہ اور یوم تاسیس تلنگانہ کی تقاریب بھی قلعہ گولکنڈہ میں ہی منائی جائیں گی۔ یہ تقاریب عام طور پر پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد پر منعقد ہوتی رہی ہیں لیکن پریڈ گراؤنڈ سکندرآباد کی نسبت برطانوی سامراج سے جڑی ہے لہذا چندر شیکھر راؤ نے حیدرآبادی روایات اور ہم آہنگی کو فروغ دینے والے حکمرانوں کی یادگار سے یوم آزادی جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کیونکہ اس سے قلعہ گولکنڈہ کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں کی ترقی یقینی ہوپائے گی۔ تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے علاوہ چیف منسٹر نے ہر ضلع میں عہدیداروں کو ہدایت دی کہ یوم آزادی کی تقاریب کسی تاریخی مقام پر منعقد کریں اور اگر ضلع ہیڈکوارٹر پر کوئی قدیم قلعہ ہو تو وہاں تقاریب کا اہتمام کیا جائے۔ تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے از خود قلعہ گولکنڈہ پہنچ کر رسم پرچم کشائی کے مقام کا تعین کیا۔ رانی محل کے قریب رسم پرچم کشائی انجام دی جائے گی اور چندر شیکھر راؤ پریڈ کی سلامی لیں گے۔ اس تقریب میں تقریباً 8تا 10ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے جس کے لئے وسیع پیمانے پر انتظامات شروع کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے یوم آزادی تقاریب کے انعقاد کیلئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے اجازت طلب کی ہے اور توقع ہے کہ کسی بھی لمحہ اے ایس آئی اجازت دے دیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور فوج نے تاریخی قلعہ میں سرکاری جھانکیوں پر مشتمل قافلہ پر اعتراض جتایا ہے کیونکہ اس میں بڑے ٹرکس ہوتے ہیں جس سے عمارت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، لہذا اس بات کا امکان ہے کہ سرکاری محکمہ جات کی جھانکیاں قلعہ گولکنڈہ سے دور کسی اور مقام پر رکھی جائیں گی۔ قلعہ گولکنڈہ کی کھلی اراضی کی ملکیت پر ریونیو اور فوج کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا۔ جس جگہ یوم آزادی تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا اگرچہ وہ زمین آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے تاہم اس کے اطراف 51ایکر اراضی فوج کے تحت ہے۔ حکومت کو یقین ہے کہ تقاریب کے انعقاد میں فوج سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ فوجی عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ قلعہ گولکنڈہ کے مغرب میں واقع اٹھارہ سیڑھی کی اراضی اُن کی ہے تاہم سرکاری عہدیدار تقاریب کے انعقاد کیلئے تنازعہ کو طوالت دیئے بغیر فوج سے تقاریب کے انعقاد کی اجازت حاصل کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق اس اراضی کے فوج کی تحویل میں ہونے سے متعلق کوئی ذکر نہیں۔ اسی دوران سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قومی پرچم لہرانے کے بعد پریڈ میں 225پولیس ملازمین حصہ لیں گے جن کا تعلق سٹی آرمڈ پولیس، تلنگانہ اسپیشل پولیس اور ہوم گارڈز سے ہوگا۔ مؤرخین کے مطابق کاکتیہ سلاطین نے قلعہ گولکنڈہ کو مٹی سے تعمیر کیا تھا جو پہاڑی پر 400 فیٹ بلندی پر ہے اور قلعہ کے اطراف کا مکمل احاطہ 700کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ قلعہ گولکنڈہ بیش قیمت کوہِ نور اور دیگر ہیروں کیلئے بھی شہرت رکھتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق بہمنی خاندان نے 1365 میں مضبوط قلعہ کی تعمیر کا کام انجام دیا اور وہ بہمنی سلاطین کا پایہ تخت تھا۔ 1518میں بہمنی سلاطین کے زوال کے بعد سلطان قلی نے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے قطب شاہی مملکت کی بنیاد ڈالی جس نے 1687 تک حکمرانی کی۔ مغل حکمرانوں نے قطب شاہی حکومت کو شکست دی۔ قطب شاہی تین حکمران سلطان قلی، جمشید قلی قطب شاہ اور ابراہیم قطب شاہ نے قلعہ گولکنڈہ کے اطراف فصیل کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔ پایہ تخت گولکنڈہ سے حیدرآباد منتقل ہونے کے باوجود قطب شاہی مغل اور آصف جاہی سلاطین نے گولکنڈہ کو فوجی ہیڈکوارٹر میں تبدیل کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک بھی وہاں ہندوستانی فوج کے یونٹس برقرار ہیں۔