حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’یہ قبر انسان کے حق میں جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے‘‘۔ قبر کا یہ گڑھا ان ہی لوگوں کے لئے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا، جو اس دار فانی کو اپنی آخری منزل نہیں سمجھتے اور نہ کبھی وہ نفس کے غلام بن کر رہے اور نہ ہی دنیا کی چمک دمک اور اس کی رنگ رلیوں پر فریفتہ ہوئے۔ اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر کلمۂ حق کی سربلندی کے لئے فکرمند رہے اور اپنی عملی زندگی کو انھوں نے قرآن و سنت کے حدود و قیود میں رکھا۔ انھیں یہ بات خوب معلوم تھی کہ ’’جنت نفس پر بار بننے والی چیزوں سے ڈھانپ دی گئی ہے‘‘۔ ایسے لوگوں کے لئے قبر کا یہ گڑھا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا۔ قبر کا یہ گڑھا ان لوگوں کے لئے جہنم کی آگ ثابت ہوگا، جنھوں نے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھا، اس کی چمک دمک اور دلفریبی پر فریفتہ ہوئے اور اس کے حصول میں اپنی پوری زندگی تج دی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جہنم کی آگ کو نفسانی خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے‘‘۔ لہذا ایسے لوگوں کے لئے قبر کا یہ گڑھا جہنم کی آگ کا گڑھا ثابت ہوگا۔
عرش کے سائے تلے
قیامت کا دن بڑا ہی ہولناک ہوگا، اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ اس دن ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی، سخت گرمی کا عالم ہوگا، سورج زمین سے بالکل قریب ہوگا اور پیاس کی شدت سے زبان سوکھ رہی ہوگی۔ اس دن سوائے اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے کوئی سایہ نہ ہوگا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’روز قیامت اللہ تعالیٰ جن خاص لوگوں پر عرش کا سایہ فرمائے گا، وہ چھ افراد ہیں: (۱) بھوکوں کو کھانا کھلانے والے (۲) والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے (۳) کمزوروں کی مدد کرنے والے۔ اس کے علاوہ تین چیزیں ایسی ہیں، جن کے دنیوی فائدے بھی ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عرش کے سائے میں جگہ بھی دے گا اور ساتھ ہی دنیا میں بھی اس کا فائدہ حاصل ہوگا، یعنی وہ بندہ (۴) احسان کرنے سے بُری موت سے بچے گا (۵) پوشیدہ صدقہ دینے سے اللہ کے غصہ سے محفوظ رہے گا اور (۶) رشتہ ناتا جوڑنے سے اللہ تعالیٰ رزق میں کشادگی عطا فرمائے گا۔