قبائیلی طبقہ میں ماؤں کی اموات سب سے زائد

تھریونتاپورم۔/13جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) کی رپورٹ کے مطابق قبائیلی علاقوں میں قبائیلی خواتین کے درمیان دوران زچگی سب سے زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں۔یہی کچھ صورتحال شیرخواروں کی بھی ہے خصوصاً کیرالا کے ویاند ضلع میں جہاں قبائیلیوں کی خاصی تعداد موجود ہے وہاں ماؤں کی اموات سب سے زائد درج کی گئی ہیں۔ یہاں پر ریاست کی مجموعی آبادی کا تقریباً 31فیصد قبائیلیوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2008-09 تا 2012-13 کے درمیان یہاں پر 51 ماؤں کی دوران زچگی اموات ہوئی ہیں جن میں سے 32خواتین کا تعلق قبائیلی طبقہ سے تھا جن کی عمریں 19تا 35سال تھیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیرالا کا یہ شمالی علاقہ جہاں پر 31.24فیصد قبائیلی آبادی پر مشتمل ہے انسانی وسائل کی فہرست میں بہت پیچھے ہے جس میں بنیادی طبی سہولیات اور تعلیمی سہولیات شامل ہے جو دیگر علاقوں اور ریاستوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے جبکہ شیر خواروں کی اموات میں بھی کوئی خاص کمی درج نہیں کی گئی ہے۔ جہاں انفینٹ مورٹیلٹی ریٹ ( آئی ایم آر) کی شرح کیرالا میں فی ہزار 7درج کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار 2008ء میں 12درج کئے گئے تھے جبکہ یہی شرح ضلع ویاند میں 7.72سے بڑھ کر9.67 ہوگئی ہے۔

یہ رپورٹ جسے حال ہی میں جاری کی گئی ہے۔ یونیسیف کے تعاون سے یہ اعداد و شمار درج کئے گئے ہیں۔ یونیسیف کے تعاون سے یہ سروے مذکورہ ضلعی نظم و نسق کے ذریعہ انجام دیا گیا جہاں صفر سے لیکر 72ماہ کے بچوں کی اموات پانچ پنچایت میں سروے پر مشتمل ہے۔سروے میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک تا دو سال عمر کے گروپ کے بچوں کے34.1فیصدکو ابتدائی ایک سال کے دوران ضروری ادویات اور ٹیکہ اندازی کی سہولت بھی نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت کے مسائل جیسے کم وزن، خون کی کمی اور کم شرح پیدائش جیسے مسائل بھی قبائیلی خواتین میں سب سے زیادہ درج کئے جارہے ہیں۔