قبائیلوں کیساتھ انصاف رسانی کیلئے قومی سطح پر جدوجہد کا اعلان

کھمم کے منڈلوں کا آندھراپردیش میں انضمام ناقابل قبول، پروفیسر کودنڈارام
حیدرآباد۔/23اگسٹ، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ پولاورم پراجکٹ کے مسئلہ پر جے اے سی کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کھمم ضلع کے 7منڈلوں کو آندھرا پردیش میں ضم کرنے کا فیصلہ تلنگانہ عوام کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے مشاورت کے بغیر ہی مرکز نے نہ صرف آرڈیننس کو منظوری دی بلکہ صدرجمہوریہ سے بھی منظوری حاصل کرلی گئی۔ سات منڈلوں میں جہاں قبائیلیوں کی اکثریت ہے ان کی رائے حاصل کئے بغیر ہی جبراً آندھراپردیش کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ ان سات منڈلوں میں 200سے زائد مواضعات ہیں جنہیں پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کیلئے آندھرا پردیش میں شامل کردیا گیا۔ کودنڈا رام نے بتایاکہ اس مسئلہ پر جدوجہد کیلئے ملک بھر کے ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھمم ضلع کے قبائیلیوں کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کو قومی سطح پر پیش کرتے ہوئے انصاف رسانی کی جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کے خلاف نہیں ہیں تاہم وہ چاہتے ہیں کہ پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کے ذریعہ قبائیلی عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم کے ڈیزائن میں تبدیلی تک جے اے سی کی جدوجہد جاری رہے گی۔صدرنشین جے اے سی کے مطابق تلنگانہ کی دیگر تنظیمیں بھی اس جدوجہد میں برابر کی شریک ہیں اور اسے نئی دہلی تک لے جایا جائیگا۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت پر زور دیا کہ وہ بھی مرکز پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے فیصلہ سے دستبرداری اور پولاورم کے ڈیزائن میں تبدیلی کیلئے مجبور کرے۔