انقرہ ۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مقتول صحافی جمال خشوگی کی منگیتر نے اس بات پر انتہائی غم اور صدمہ کا اظہار کیا ہے جہاں انہیں یہ رپورٹس مل رہی ہیں کہ جمال خشوگی کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعش کو کیمیائی مادوں (تیزاب) وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے ضائع کردیا گیا۔ ہیٹس سینیگر نے جمعرات کو ٹوئیٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خشوگی کے قاتلوں نے ان کے ارکان خاندان کو خشوگی کی موت کے بعد بااحترام طور پر ان کی نماز جنازہ پڑھائے جانے اور مقتول کی خواہش کے مطابق مدینہ منورہ میں ان کی تدفین سے محروم کردیا۔ کیا کسی مسلمان کو باوقار طور پر اپنے مرنے کے بعد دفنائے جانے کا حکم نہیں ہے؟ ترکی کا اب بھی یہی کہنا ہیکہ 2 اکٹوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارتخانہ کی عمارت میں ایک 15 رکنی ’’قاتلوں کی ٹولی‘‘ نے خشوگی کا کام تمام کرتے ہوئے ان کی نعش کو بھی نہیں بخشا بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے تیزاب سے ضائع کردیا۔ میڈیا میں بھی یہی خبریں گشت کررہی ہیں کہ اگر خشوگی کی نعش ضائع نہیں کی گئی ہے تو وہ آخر سفارتخانہ کی عمارت میں دریافت کیوں نہیں کی گئی؟! حقیقت یہی ہیکہ خشوگی کو قتل کرنے کے بعد ان کی نعش کو مکمل طور پر ضائع کردیا گیا۔