صدر تلنگانہ پی سی سی اتم کمار ریڈی کا چیف منسٹر کے سی آر سے استفسار
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر سے استفسار کیا کہ وہ 12 فیصد مسلم تحفظات کے معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی سے بات چیت کیوں نہیں کی ۔ مرکز سے آر پار کی لڑائی اور دہلی میں احتجاجی دھرنا کب منظم کرو گے اور سپریم کورٹ سے کب رجوع ہوں گے اس کی تلنگانہ کے مسلمانوں سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اقتدار حاصل ہونے پر کے سی آر نے مسلمانوں کو اندرون 4 ماہ 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ حکومت کے 4 سال مکمل ہونے کے بعد دہلی میں کے سی آر نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی مگر مسلم تحفظات پر کوئی بات چیت نہیں کی جب کہ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی 12 فیصد مسلم تحفظات پر وزیراعظم سے بات چیت ہوگئی ہے ۔ مودی نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ جب کے سی آر راضی اور مودی راضی ہے تو پھر دیر کیوں ہورہی ہے ۔ ریاست میں ملازمتوں کے لیے اعلامیہ جاری ہورہے ہیں اور ابھی تک 25 ہزار جائیدادوں پر تقررات کرنے کا حکومت دعویٰ کررہی ہے ۔ اگر 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کیا جائے تو ہزاروں مسلمانوں کو فائدہ ہوگا ۔ اس طرح تعلیمی میدان میں بھی مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولتیں حاصل ہوںگی ۔ چیف منسٹر نے ریاست کے مختلف مسائل پر وزیراعظم کو 10 مکتوبات پیش کئے جس میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ چیف منسٹر مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ مرکز پر دباؤ بنانے میں ناکام ہونے والی ٹی آر ایس حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ اہم انتخابی وعدوں کو فراموش کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کو مسلمانوں سے ووٹ مانگنے کا بھی حق نہیں ہے ۔ 4 سال تک انتظار کرنے والے مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے ۔ وہ مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں دغا باز اور دھوکہ باز چیف منسٹر اور ٹی آر ایس کو سبق سکھانے کے لیے کمربستہ ہوجائیں ۔ کے سی آر مسلم تحفظات پر مودی سے بات چیت کرنے میں خوفزدہ کیوں ہیں ۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے مرکز کے انکار کرنے پر زلزلے لانے ، دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دینے آر پار کی لڑائی لڑتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا تھا ۔ 4 سال گذرنے کے بعد بھی خاموشی اختیار کی ہے ۔ ایسے دھوکہ باز چیف منسٹر کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے ۔ دراصل چیف منسٹر کے سی آر اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوگیا ہے ۔ جس کے بعد ہی ٹی آر ایس نے صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کی تائید کی ۔ اس کے علاوہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی حکومت تلنگانہ نے مدافعت کی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ مودی اور بی جے پی کی تائید کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر مسلمانوں کے ہمدرد اور دوست نہیں ہوسکتے ۔ اس کے علاوہ تقسیم آندھرا پردیش بل میں بیارم میں اسٹیل فیکٹری ، قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری اور ساتھ ہی قبائلی یونیورسٹی قائم کرنے ہائی کورٹ کو تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ جس پر آج تک کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ چیف منسٹر اور وزیراعظم کا خفیہ معاہدہ تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہونچا رہا ہے ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ان کے دورے دہلی کے موقع پر صدر کانگریس راہول گاندھی سے ملاقات ہوئی ہے ۔ جنہوں نے پارٹی کو بوتھ سطح سے مستحکم کرنے کی ہدایت دی ۔ پارٹی کی جانب سے امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا سروے کیا جارہا ہے ۔ سروے میں موجودہ ارکان اسمبلی اور پارٹی کے اہم قائدین کو استثنیٰ دیتے ہوئے دوسرے حلقوں میں سروے کیا جارہا ہے ۔ ووٹر لسٹ کی تیاری میں کانگریس کو شکوک ہے ۔ بی سی ووٹر لسٹ میں کئی بے قاعدگیاں ہونے کی شکایتیں وصول ہورہی ہیں ۔ کانگریس اس کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں ہوگی مگر چیف منسٹر اور الیکشن کمیشن کو مکتوبات روانہ کرے گی ۔۔