صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا دعویٰ، محبوب نگر میں اوقافی جائیدادوں کا معائنہ، آئی ٹی آئی کے اسنادات کی تقسیم
حیدرآباد ۔ 18۔ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے آج محبوب نگر ضلع کا دورہ کرتے ہوئے مختلف اوقافی جائیدادوں کا معائنہ کیا اور ان کے تحفظ کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں۔ محمد سلیم نے جہانگیر پیراں آئی ٹی آئی میں اسکل ڈیولپمنٹ سے متعلق مختلف کورسیس میں کامیاب امیدواروں میں اسنادات تقسیم کئے ۔ اس کے علاوہ وقف کامپلکس، جامع مسجد محبوب نگر اور دیگر اراضیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مسجد سلیمہ امیر کی پہلی منزل کے تعمیری کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے آر اینڈ بی گیسٹ ہاؤز میں وزیر صحت ڈاکٹر لکشما ریڈی ، رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی اور رکن اسمبلی سرینواس گوڑ کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے محبوب نگر میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی اور ان کی صیانت پر تبادلہ خیال کیا۔ صدرنشین وقف بورڈ کے ہمراہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم آئی پی ایس اور بورڈ کے دیگر عہدیدار موجود تھے۔ جہانگیر پیراں آئی ٹی آئی میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد سلیم نے اعلان کیا کہ وقف بورڈ کے تحت چلنے والے اس آئی ٹی آئی کو مزید ترقی دیتے ہوئے روزگار پر مبنی نئے کورسیس متعارف کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مختلف پیشہ ورانہ کورسیس میں مہارت کے ذریعہ اقلیتی نوجوانوں کو مختلف خانگی اداروں میں روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی آئی کی ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ محمد سلیم نے کہا کہ تلنگانہ کی کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کی بھلائی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں، اس کی مثال ملک کی کسی اور ریاست میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کے سی آر کو سیکولر چیف منسٹر قرار دیا اور کہا کہ اپنے طویل سیاسی کیریئر میں انہوں نے 13 چیف منسٹرس کو دیکھا ہے۔ ان تمام میں کے سی آر حقیقی سیکولر اور اقلیت دوست چیف منسٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں ترقی کیلئے جو قدم اٹھائے گئے ، وہ نہ صرف مثالی ہیں بلکہ تلنگانہ کو ملک میں پہلی ریاست کا درجہ حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اسکیمات سے بھرپور استفادہ کریں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر شاہنواز قاسم نے آئی ٹی آئی کی ترقی کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کرنے کا تیقن دیا۔ رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے اقلیتی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ کورسیس میں ٹریننگ کی ستائش کی اور کہا کہ موجودہ دور میں خانگی شعبہ میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ خود کو مختلف کورسیس میں شامل کرتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کو یقینی بنائیں۔ بعد میں صدرنشین وقف بورڈ نے محبوب نگر وقف کامپلکس کا معائنہ کیا جو وقف بورڈ کے زیر انتظام ہے۔ اس کامپلکس کے تحت 500 ملگیاں ہیں جن کا کریہ وقف بورڈ کو حاصل ہوتا ہے۔ محمد سلیم نے کا کامپلکس کے علاوہ متصل کھلی اراضی کو ترقی دیتے ہوئے بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے جامع مسجد محبوب نگر کی ترقی کیلئے مقامی افراد کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات پر بہر صورت عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی سیاسی فائدہ کیلئے مسلم تحفظات کے مسئلہ کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر جو ٹھان لیتے ہیں اسے ہر صورت میں مکمل کرتے ہیں۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران علحدہ ریاست کی تشکیل کو ناممکن قرار دیا گیا تھا لیکن کے سی آر نے اسے ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے اسمبلی میں بل منظور کیا گیا اور تمام قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ سے منظوری حاصل کی جائے گی ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ تحفظات کے مسئلہ پر اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ کا بجٹ کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ اقلیتوں کیلئے شادی مبارک ، اسکالرشپ اور اقامتی اسکولس جیسی اسکیمات شروع کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے اور 105 سے زائد نشستیں حاصل ہوں گی۔