فیشن کیلئے ترک سنت انتہائی قبیح اور مذموم عمل

بالوںکی کٹنگ میں بھی اغیار کی نقالی لمحہ فکر، مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں مفتی عبدالفتاح عادل کا خطاب

حیدرآباد۔/15 مارچ، ( راست ) ایک مومن کو اپنی طاقت و توانائی پیغام حق پر عمل کرنے اور اس پیغام کو بندگان حق تک پہنچانے کے لئے استعمال کرنا ضروری ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نوجوانوں نے ہی اپنی قوم اپنے معاشرہ اپنے سماج و سوسائٹی کیلئے اور اپنے ملک و ملت کیلئے عظیم اور ناقابل فراموش کارنامے انجام دیئے ہیں۔ قرآن و سنت کی بالادستی اور اسلامی انقلاب کے قیام کیلئے نوجوانوں نے ہی اپنا تن من دھن قربان کیا۔ اصحاب کہف وہ چند نوجوان ہی تھے جنہوں نے وقت کے ظالم بادشاہ کے سامنے خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لاکر اپنی حق پرستی کا اعلان کیا تھا۔ وہ چند نوجوان ہی تھے جنہوں نے سخت حالات میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر ایمان کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی کو غنیمت سمجھو، اور اس سے پورا فائدہ اٹھاؤ، اس لئے ضرورت ہے کہ آج کا نوجوان بے راہ روی سے توبہ کرے اور اپنی ساری طاقت و توانائی اسلام کی سربلندی کیلئے لگادے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہیں، ملک و ملت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی ( استاذ جامعہ دارالہدیٰ ) نے مسجد حفیظیہ ریاست نگر میں کیا۔ مولانا نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کی تباہی و بربادی کیلئے یہود و نصاریٰ نے بڑی بڑی کانفرنسیں کی ہیں اور وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نظر آرہے ہیں کیونکہ آج ہم اپنے معاشرہ کے نوجوانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا پرستی کے بجائے خدا بیزاری میں مبتلاء ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں قرآن کے بجائے کرکٹ تھما دیا گیا ہے۔ وہ اپنا وقت فحاشی اور بے حیائی کے کاموں میں گذار رہے ہیں۔ موبائیل، انٹر نیٹ اور مخرب اخلاق ویب سائیٹس کے عادی ہوچکے ہیں۔ عبادت کے بجائے لہو و لعب ان کا پیشہ بن چکا ہے۔ فیشن کیلئے ترک سنت انتہائی قبیح اور مذموم عمل ہے۔ افسوس ہے کہ آج کے نوجوان اپنے لباس و پوشاک یہاں تک کہ بالوں کی کٹنگ میں بھی اغیار کے طریقے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ مختلف قسم کے جانوروں کی شکل و صورت کے مطابق اپنے بالوں کو تراش رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ نوجوان نسل اپنے آپ کو تبدیل کرے۔ سرپرست اپنی نوجوان نسل پر کڑی نظر رکھیں، انہیں فیشن سے زیادہ سنت پر عمل کی ترغیب دیں۔گانے اور موسیقی عذاب الہی کو دعوت دینے والی چیزیں ہیں اس سے اپنی نوجوان نسل کو بچائیں۔ خود نوجوان بھی اپنے دین و دنیا کو سنوارنے پر توجہ دیں، غفلت بھری زندگی سے نکل کر احساس و شعور پیدا کریں۔ آپ ہیں تو قوم کی ترقی ہے۔