دو سال کے 1215 کروڑ کی اجرائی باقی ، اقلیتی طلبہ کے 700 کروڑ کی عدم اجرائی ، سرٹیفکٹ کی اجرائی سے کالجس کا انکار
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن گزشتہ چار برسوں میں مختلف طبقات کیلئے اقامتی اسکولوں کے قیام کے علاوہ کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کا رویہ طلبہ اور کالجس کے لئے تکلیف دہ ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے ڈگری ، پوسٹ گریجویٹ اور انجنیئرنگ کالجس کو حکومت سے فیس باز ادائیگی رقم کا انتظار ہے۔ 2014 ء میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد حکومت نے فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری کو روک دیا تھا ۔ حکومت نے کہاکہ وہ صرف تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو فیس ادا کرے گی ۔ مسئلہ کی یکسوئی تک دو سال گزر گئے اور گزشتہ دو برسوں میں بقایہ جات کا معمولی حصہ جاری کیا گیا لیکن ابھی بھی بتایا جاتا ہے کہ 1215 کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ ہزاروں طلبہ حکومت کے تساہل کے سبب پریشان ہیں کیونکہ کالجس انہیں بقایا جات کی اجرائی تک سرٹیفکٹ جاری کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ کالجس کی مانگ ہے کہ جب تک فیس ادا نہیں کی جائے گی وہ سرٹیفکٹ نہیں دیں گے ۔ فیس باز ادائیگی کیلئے طلبہ سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ کالجس کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری نہ ہونے کے سبب کئی کالجس مالیاتی بحران کا شکار ہوگئے اور بعض کالجس بند ہوگئے ۔ تلنگانہ میں کئی انجنیئرنگ کالجس گزشتہ دو برسوں میں بند ہوچکے ہیں۔ دیگر طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتی طلبہ کیلئے بھی فیس باز ادائیگی کی صورتحال حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ حکومت نے جاریہ سال بجٹ میں فیس باز ادائیگی کیلئے 248 کروڑ روپئے مختص کئے تھے اور عہدیدار مکمل بجٹ کی اجرائی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو سال کے مزید بقایا جات کی اجرائی باقی ہے جو تقریباً 700 کروڑ تک ہوسکتی ہے۔ حکومت بجٹ میں کمی کا بہانہ کرتے ہوئے بقایا جات کی اجرائی سے گریز کر رہی ہے۔ کئی کالجس نے طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیونکہ فیس کے بقایا جات ادا نہیں کئے گئے۔ کالجس حکومت سے بجٹ کی عدم اجرائی کے باعث مالیاتی بحران کا شکار ہے اور وہ اپنے اسٹاف کو تنخواہوںکی ادائیگی کے موقف میں نہیں ہے۔ ٹیچنگ اسٹاف تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب طلبہ کو بہتر تعلیم فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ اسی دوران تلنگانہ ڈگری اور پی جی کالج مینجمنٹ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری وجئے بھاسکر نے بتایا کہ فیس باز ادائیگی میں تاخیر کے سبب اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔ کئی لکچررس نے خدمات سے استعفیٰ دے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ڈگری کالجس بند کردیئے گئے۔ کئی کالجس بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے چلائے جارہے ہیں اور وہ بینکوں کی اقساط ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت 2000 کروڑ کے بقایا جات کے ساتھ طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔