فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپس میں تاخیر پر اقلیتی طلبہ کو دشواریاں

نئی درخواستوں کی وصولی کا بھی عدم آغاز ، حکومت سے رقم کی اجرائی میں پہلو تہی کا شاخسانہ
حیدرآباد۔ 8۔ڈسمبر (سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کی تاخیر کے سبب کئی دشواریوں کا سامنا ہے۔ مرکزی حکومت کی اسکالرشپ کے سلسلہ میں پری میٹرک زمرہ میں حکومت کی جانب سے میچنگ گرانٹ کی عدم اجرائی کے سبب ہزاروں طلبہ اسکالرشپ سے محروم ہیں۔ دوسری طرف جاریہ تعلیمی سال کیلئے ریاستی حکومت کی اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی اسکیمات کیلئے درخواستوں کی وصولی کا ابھی تک آغاز نہیں ہوا۔ تعلیمی سال 2012-13 ء اور 2013-14 ء کے تحت اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے 100 کروڑ روپئے کی اجرائی ابھی بھی باقی ہے۔ حکومت ابھی تک یہ رقم جاری نہیں کی۔ ریاستی اور مرکزی اسکالرشپ سے محرومی کے سبب طلبہ کو اقلیتی بہبود کے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف طلبہ کو فیس کی ادائیگی کے سلسلہ میں کالجس کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اسکالرشپ کے تحت 28 کروڑ 90 لاکھ 38 ہزار کی اجرائی باقی تھی جبکہ فیس باز ادائیگی کے تحت 146 کروڑ 26 لاکھ 29 ہزار کی اجرائی باقی تھی جس میں سے حکومت نے علی الترتیب 15 کروڑ اور 60 کروڑ روپئے جاری کئے جبکہ مزید 100 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ جاریہ تعلیمی سال کیلئے حکومت نے بجٹ میں اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے سلسلہ میں رقم تو مختص کردی لیکن اسکیم کے شرائط کو ابھی تک قطعیت نہیں دی گئی جس کے باعث امیدواروں سے درخواستیں طلب نہیں کی جاسکیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اقلیتی طلبہ جاریہ تعلیمی سال ، اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم رہ جائیں گے۔ حکومت نے فیس باز ادائیگی سے متعلق سابقہ اسکیم کی جگہ نئی اسکیم فاسٹ کا اعلان کیا لیکن ابھی تک اس کے شرائط کو قطعیت نہیں دی گئی۔ اسی دوران مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت ریاستی حکومت کو 25 فیصد میچنگ گرانٹ کے طور پر 20کروڑ 57 لاکھ روپئے جاری کرنے باقی ہیں۔ جس کے سبب 76 ہزار سے زائد طلبہ اسکالرشپ سے ابھی تک محروم ہیں۔ حکومت بجٹ کی جلد اجرائی کا تیقن تو دے رہی ہے لیکن اس سلسلہ میں عملی اقدامات ندارد ہیں۔