فیس باز ادائیگی اسکیم کی برخواستگی سے طلباء میں تشویش

بے قاعدگیوں میں ملوث کالجس کے وجود کو خطرہ ، چیف منسٹر کورپورٹ پیش
حیدرآباد۔/17جولائی، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ نے حکومت کی جانب سے 1000کروڑ روپئے مختص کرنے کے فیصلہ کے بعد بجٹ کی تیاریوں اور خاص طور پر نئی اسکیمات پر غور و خوض کا آغاز کردیا ہے۔ متحدہ ریاست میں اقلیتی بہبودکا بجٹ 1027کروڑ تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے ایک طرف اقلیتی بہبود کے عہدیدار بجٹ کی تیاری اور مختلف اداروں میں تقسیم میں مصروف ہوچکے ہیں تو دوسری طرف فیس باز ادائیگی اسکیم کی برخواستگی سے طلبہ اور کالجس کے انتظامیہ میں تشویش دیکھی جارہی ہے۔ حکومت نے اگرچہ تیقن دیا ہے کہ نئی اسکیم سے تلنگانہ کے طلبہ متاثر نہیں ہوں گے لیکن ایسے کالجس جو اس اسکیم کے نام پر بے قاعدگیوں میں ملوث تھے ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی ویلفیر کے عہدیداروں نے اعتراف کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے نام پر مختلف کالجس بھاری رقومات حاصل کررہے تھے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کالجس کی مبینہ بے قاعدگیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو پیش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت سے متعلق طلبہ کے نام پر کئی سو کروڑ روپئے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا جس کے بعد حکومت نے اس اسکیم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کئی ایسے کالجس ہیں جو فرضی طلبہ کی لسٹ پیش کرتے ہوئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت ہر سال لاکھوں روپئے حاصل کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دوردراز کے علاقوں میں واقع کالجس طلبہ کو اسکالر شپ کا لالچ دے کر داخلے کیلئے تیار کرلیتے اور ان کے نام فیس بازادائیگی اسکیم کیلئے روانہ کئے جاتے۔ یہ طلبہ سال بھر کبھی بھی کالج میں کلاسیس میں شرکت نہیں کرتے اور راست طور پر امتحان کے موقع پر حاضر ہوتے۔ عہدیداروں کے مطابق بعض کالجس میں طلبہ امتحان میں بھی شرکت نہ کرتے لیکن متعلقہ محکمہ سے فیس باز ادائیگی کی رقم حاصل کرلی جاتی۔ بی سی ویلفیر میں ابتدائی تحقیقات کے دوران ایسے 50ہزار فرضی طلبہ کے ناموں کا انکشاف ہوا جن کے نام پر کالجس بھاری رقومات حاصل کررہے تھے۔ نئی اسکیم کے تحت طلبہ کو 1956ء سے تلنگانہ میں قیام سے متعلق سرٹیفکیٹ داخل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ طلبہ اپنے والد کے تلنگانہ میں پیدائش سے متعلق سرٹیفکیٹ یا پھر 1956ء سے تلنگانہ میں قیام کا رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے نئی اسکیم کے تحت معاشی امداد حاصل کرسکتے ہیں۔ حکومت نے 1956ء سے قیام کی جو شرط مقرر کی ہے اس سے کئی ایسے طلبہ اسکیم سے علحدہ ہوجائیں گے جن کا تعلق سیما آندھرا سے ہے یا پھر وہ فرضی ہیں۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے نئی اسکیم کے اعلان کے بعد ایسے طلبہ و کالجس اُلجھن کا شکار ہیں جنہیں گذشتہ سال کی تعلیمی فیس کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔ کئی طلبہ ایسے ہیں جو کورس کے درمیانی حصہ میں ہیں اور وہ نئے شرائط کی تکمیل کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان حالات میں کیا ایسے طلبہ کو کورس کی تکمیل تک حکومت تعلیمی فیس ادا کرے گی، اس کا فیصلہ حکومت کو کرنا ابھی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی اسکیم پر عمل آوری کی تفصیلات اور رہنمایانہ خطوط طئے کرتے وقت عہدیدار اس مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔ حکومت کو یقین ہے کہ نئی شرائط کے ساتھ نئی اسکیم کے آغاز کی صورت میں حکومت کو فیس بازادائیگی کے تحت کروڑہا روپئے کی بچت ہوگی جو مبینہ طور پر بے قاعدگیوں کے ذریعہ حاصل کئے جارہے تھے۔