فہرست رائے دہندگان میں نام کے عدم اندراج پر حق رائے دہی سے محرومی

حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ’ ووٹ ‘ کا استعمال دستور میں دیا گیا بنیادی حق ہے اور اس حق کے استعمال کے ذریعہ آپ اپنے مستقبل کو تابناک یا تاریک بناسکتے ہیں ۔ ہندوستانی نوجوان جن کی عمر 18 برس سے تجاوز کرچکی ہو وہ اس حق کے استعمال کے ذریعہ اپنی پسند کی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق میں رائے دے سکتے ہیں اور انتخابات میں اپنی رائے کے ذریعہ کسی کو منتخب یا تمام کو مسترد کرسکتے ہیں لیکن انتخابات میں ہونے والی رائے دہی میں حصہ لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ فہرست رائے دہندگان میں آپ کا نام شامل ہو تب ہی آپ رائے دہی میں حصہ لینے کے لیے قانونی طور پر اہل قرار دئیے جائیں گے ۔ آندھرا پردیش میں فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے لیے چیف الکٹورل آفیسر نے 20 مارچ تک کی مہلت فراہم کی ہے اور اس مہلت سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ایسے رائے دہندے جن کے نام کسی وجہ سے فہرست رائے دہندگان سے حذف ہوگئے ہوں یا پھر ان کے ناموں کا اندراج ہوا ہی نہ ہو وہ فہرست رائے دہندگان میں اپنا نام شامل کرنے کی درخواست یعنی فارم 6 پر کرتے ہوئے 20 مارچ تک داخل کرسکتے ہیں ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آندھرا پردیش چیف الکٹورل آفیسر کی جانب سے 20 مارچ تک روزانہ فہرست رائے دہندگان کو عوام کے مشاہدے کے لیے متعلقہ مرکز رائے دہی پر رکھنے کی ہدایت دی جاچکی ہے اور ان ہدایات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی لیا جاچکا ہے ۔

علاوہ ازیں فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے خواہاں افراد آن لائن بھی درخواستیں ڈاون لوڈ کرتے ہوئے داخل کرسکتے ہیں ۔ چیف الکٹورل آفیسر کے دفتر کے ذرائع کے بموجب ہر اہل شخص کو رائے دہی کا حق دینے کے لیے ضروری اقدامات کے طور پر امیدواروں کے پرچہ نامزدگی کے ادخال تک ناموں کے اندراج کی سہولت کی فراہمی کے متعلق غور کیا جارہا ہے لیکن فہرست رائے دہندگان میں اندراج کی اہلیت رکھنے والے اشخاص کو چاہئے کہ وہ جمہوریت کے اس عظیم تہوار کا حصہ بننے کے لیے قبل از وقت فہرست رائے دہندگان میں اپنے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں ۔ رائے دہی میں حصہ لینا نہ صرف اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے بلکہ ملک کے تئیں اپنے احساسات کو اجاگر کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے اور فہرست رائے دہندگان میں شامل رائے دہندے اس اہم فیصلہ میں اپنی رائے دے سکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں رائے دہی کے عمل کو اپناتے ہوئے ہم اپنی کوشش کرسکتے ہیں ۔ رائے دہی کے فیصلہ میں اضافہ اور رائے دہندوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن ان رائے دہندوں کے لیے جو ہر امیدوار میں خامی تلاش کرتے ہوئے انہیں مسترد کرنا چاہتے ہیں اور رائے دہی سے دور رہتے ہیں انہیں تمام امیدواروں کو مسترد کرنے کا بھی الیکشن کمیشن نے 2014 عام انتخابات میں اختیار دیا ہے اسی لیے رائے دہی میں حصہ لیتے ہوئے بھی اب رائے دہندے اپنے احساسات سے سیاسی جماعتوں کو واقف کرواسکتے ہیں ۔۔