فہرست رائے دہندگان میں متعدد مرتبہ درج ناموں کا اخراج

الیکشن کمیشن سے خصوصی سافٹ ویر کا استعمال ، بوتھ واری سطح پر فہرست رائے دہندگان پر نظر ثانی جاری
حیدرآباد۔13ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی فہرست رائے دہندگان میں 75 ہزار 604 ایسے رائے دہندوں کی شناخت کرتے ہوئے دوبارہ اندراج کردہ ناموں کو حذف کردیا گیا ہے جن کے نام ایک سے زائد مرتبہ درج تھے۔ فہرست رائے دہندگان کو شفاف بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور اسی مہم کے دوران 75ہزار سے زائد ایسے ووٹروں کو حذف کیا گیا ہے جو ایک سے زائد مرتبہ درج تھے۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر دانا کشور نے ریڈیو کے ذریعہ شہریوں سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے بالخصوص ایک ہی شخص کے ایک سے زائد مقامات پر ناموں کو نکالنے کیلئے عصری ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہاہے اور اس کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے EVO2.5 سافٹ وئیر کا استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہورہا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا کام جاری ہے اوراس کام کی انجام دہی کیلئے شہر حیدرآباد کے حدود میں موجود تمام مراکز رائے دہی پر بوتھ لیول آفیسر موجود ہیں اور یہ عہدیدار 25 ستمبر تک موجود رہیں گے ۔ مسٹر دانا کشور نے بتایاکہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی اور خامیوں کو دور کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت ہر 5 مراکز رائے دہی پر ایک سوپر وائزر کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے اور سوپر وائزر کو اس بات کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ تمام بوتھ لیول عہدیداروں کی موجودگی کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے کہا کہ ضلع حیدرآباد میں فہرست رائے دہی کو قطعیت دینے سے قبل 1جنوری 2018 کو 18 سال کی عمر کو پہنچ جانے والے نوجوان رائے دہندوں کو اپنے نام فہرست رائے دہندگان میں درج کروانے کے لئے بھی شعور بیداری مہم چلائی جا رہی ہے اور اس سلسلہ میں غیر سرکاری تنظیموں اور طلبہ تنظیموں کے علاوہ اسٹوڈنٹس کلب کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔مسٹر دانا کشور نے بتایا کہ حیدرآباد میں انتخابی عمل کی تکمیل کے لئے 20ہزار عہدیداروں پر مشتمل عملہ درکار ہے اور اس عملہ کو انتخابی تیاریوں کے لئے تربیت کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔