فوج کے پاس اسلحہ و گولہ بارود کی شدید قلت

سی اے جی رپورٹ کا وزیر دفاع نے اعتراف کرلیا ، یو پی اے حکومت موردالزام
ناگپور ۔ /17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع منوہر پاریکر نے جنگی تیاری کے طور پر اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ تیار رکھنے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کیلئے پیشرو یو پی اے حکومت کو مورد الزام قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت میں یہ صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارک اس وقت کیا جبکہ سی اے جی نے اسلحہ کے موقف پر اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ فوج کو جنگ کی صورت میں اسلحہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ۔ کیونکہ اگر ایسی کوئی لڑائی شروع ہوجائے تو اس کے پاس موجود ذخیرہ بمشکل 20 دن کیلئے ہی کافی ہوتا ۔ منوہر پاریکر نے کہا کہ وہ سی اے جی رپورٹ کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ صورتحال 2013 ء تک تھی لیکن اب اس میں کافی بہتری آچکی ہے اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2008 اور 2013 ء کے درمیان اسلحہ و گولہ بارود کے ذخیرہ پر توجہ نہیں دی گئی اور اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال اتنی خراب نہیں ہے اور یہاں سوال 20 یا 40 دن کا نہیں ہے ۔ اسلحہ اور گولہ بارود کا انحصار ضرورت پر ہوتا ہے اور دیگر کئی عوامل بھی پیش نظر رکھنے ہوتے ہیں ۔