فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست

کراچی ۔ 8 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میں فوجی عدالتیں قائم کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست کا ادخال عمل میں آیا ہے جس میں اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ دستور کے 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ( ترمیمی ) ایکٹ جس کے تحت فوجی عدالتیں قائم کئے جانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ دہشت گردانہ معاملات کی عاجلانہ یکسوئی کی جاسکے لیکن یہ ترمیمات پاکستان میں عدلیہ اور مذہبی آزادی کے سراسر خلاف ورزی ہوگی ۔ یاد رہے کہ منگل کے روز صدر پاکستان ممنون حسین پاکستانی پارلیمنٹ میں سیویلین مشتبہ دہشت گردوں کے معاملات سے عاجلانہ طورپر نمٹنے فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کے بل کو منظور کئے جانے کے بعد ، اپنی شخصی منظوری بھی دیدی تھی اور اسے قانون میں تبدیل کردیا تھا۔ اس قانون کو حکومت کے نئے 20 پوائنٹ نیشنل ایکشن پلان کے تحت متعارف کروایا گیا تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کو موثر بنایا جاسکے ۔ منگل کے روز کی گئی ترمیم دراصل 16 ڈسمبر کو پشاور کے اسکول پر حملے کے بعد ملک کی افواج کی سفارش کی بنیاد پر متعارف کیا گیا تھا جس سے پاکستان میں گزشتہ فوجی حکومتوں کی یادیں تازہ ہوگئیں جہاں فوجی حکمرانوں نے تمام تر اختیارات فوج کو ہی سونپ رکھے تھے جسے جمہوریت پسندوں نے پارلیمنٹ ، جمہوریت اور عدلیہ کے قتل سے تعبیر کیا تھا ۔