تہران ۔19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کے پاسداران انقلاب ایران کے ایک سینئر کمانڈر نے آج کہا کہ غیر ملکی معائنہ کاروں کو فوجی اڈوں میں داخلہ پر امتناع عائد کردیا جائے گا ۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی بھی نیوکلیئر معاہدے کے تحت ایسی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی لیڈر جنرل حسین سلامی نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ فوجی اڈوں پر غیر ملکی معائنہ کاروں کی آمد کی اجازت ان کی فروخت کے مماثل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کو جو اس کا تذکرہ بھی کریں گے گولیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ایران جاسوسوں کی جنت نہیں بن سکتا ہم دشمن کیلئے سرخ قالین نہیں بچھا سکتے ۔ ایران اور 6عالمی طاقتوں امریکہ ‘ برطانیہ ‘فرانس ‘ جرمنی ‘ چین اور روس ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خاتمہ کیلئے ایک معاہدہ کے چوکٹھے پر اتفاق رائے کرچکے ہیں ‘ جس کے عوض ایران پر سے مغربی ممالک اپنی تحدیدات برخواست کردیں گے ۔ امیدظاہر کی گئی ہے کہ قطعی معاہدہ 30جون تک طئے پائے گا ۔
چوکٹھا معاہدہ کے بارے میں ایک حقائق پر مبنی بیان وزارت خارجہ امریکہ کی جانب سے جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ ایران کو امریکی نیوکلیئر ادارہ کو مشتبہ مقامات تک رسائی فراہم کی جانی چاہیئے ۔ ایران نے رپورٹ کے ان فقروں پر اعتراض کیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی نگرانکار ادارہ کی جانب سے ایران کی معاہدہ کی تعمیل کے معائنوں کے بعد ہی تحدیدات برخواست کی جائیں گی ۔ اُس نے معاہدہ کی رپورٹ کے لب و لہجہ پر بھی اعتراض کیا ہے ۔ رپورٹ کے بموجب ایران نے عدم پھیلاؤ معاہدہ کے اضافی پروٹوکول کی عمل آوری سے بھی اتفاق کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ معلنہ اور غیر معلنہ دونوں نیوکلیئر تنصیبات تک عالمی ادارہ کو رسائی فراہم کی جائے گی ‘ لیکن جنرل سلامی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی معائنہ کاروں کو فوجی اڈوں کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کا مطلب اُن کا ’’قبضہ ‘‘ ہوگا اور فوجی اور دفاعی راز کا انکشاف ہوجائے گا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کی توہین ہوگی ۔ انہیں فوج کے حسب معمول اڈوں کے معائنے کی بھی اجازت کا خواب نہیں دیکھنا چاہیئے ۔